دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
وتصنیفات کو عام کرنا چاہتے تھے، اب ہم اصحاب تبلیغ ارباب حل وعقد کے لئے یہ بات قابل غور ہے کہ حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ کی اس خواہش اور ہدایت پر کس حد تک عمل کیا؟ ان کی کتنی کتابوں سے انتفاع کیا؟ اور ان کی تعلیمات جو قرآن وحدیث کی روشنی میں ہیں ان کو کتنا عام کیا؟ایک بڑی مشکل او راس کا حل حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی تعلیمات جو قرآن وحدیث کی روشنی میں ہیں اوراپنی جماعت دعوت وتبلیغ کے ذریعہ ان کو عام کرنے کی بات حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ نے ارشاد فرمائی ہے، اس میں ایک مشکل اور دشواری یہ ہے کہ حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی کتابیں عموماً علمی انداز کی ہیں ان میں مشکل اور دقیق الفاظ ہوتے ہیں نیز وہ قدیم اسلوب کے مطابق لکھی گئیں ہیں جو بظاہر آج کل کے عام لوگوں کی عقل وفہم کے مطابق کم ہوتی ہیں یا کم از کم ان کو سمجھنے میں دقت اور دشواری پیش آسکتی ہے اس کا کیا حل ہونا چاہئے؟ بات ایک حدتک تو واقعی صحیح ہے لیکن حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی سب کتابیں تو ایسی نہیں ہیں ،بلکہ وہ کتابیں جو عوام کی اصلاح کے لئے لکھی گئی ہیں مثلاً جزاء الاعمال (جس کے نصاب میں شامل کرنے اور تعلیم کرنے کی ہدایت خودحضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒنے دی ہے) اور مثلاً حیات المسلمین، تعلیم الدین، آداب زندگی، بہشتی زیور، وغیرہ بہت آسان اسلوب میں اور عام فہم زبان میں ہیں ، اور جو کتابیں مشکل ہیں ان کا بھی ایک حل ہے۔ حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے حکیم الامت حضرت مولانااشرف علی تھانویؒ کی تجدیدی شان اور تجدیدی خدمات کا بہت تفصیل سے ذکر فرمایا ہے اس کے اخیر میں تحریر فرماتے ہیں :