دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
اس تبلیغ کا مقصدحضورﷺ کی لائی ہوئی پوری شریعت کو زندہ کرنا ہے فرمایا:اصل جو تبلیغ ہے وہ صرف دو امر کی ہے ، اور باقی جو ہیں اس کی صورت اور شکل بٹھانے کے لئے ہیں ، تووہ دو چیزیں ایک مادّی ہے ،اور ایک روحانی ہے، مادّی سے مراد جوارح (یعنی اعضاء) سے تعلق رکھنے والی ہے ، سووہ تو یہ ہے کہ حضور ﷺ کی لائی ہوئی باتوں کو پھیلانے کیلئے ملک بہ ملک اور اقلیم بہ اقلیم جماعتیں بنا کر پھرنے کی سنت کو زندہ کرکے فروغ دینا اور پائیدا ر کرناہے۔ روحانی سے مراد جذبات کی تبلیغ یعنی حق تعالیٰ کے حکم پر جان دینے کا رواج ڈالنا جس کو اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے:’’ فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤمِنُوْنَ حَتیّٰ یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِي أنْفُسِھِمْ حَرَجاً مِمَّا قَضَیْتَ َویُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً۔‘‘ (سورۂ نساء: پ۵) ترجمہ:قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ اس وقت تک مؤمن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ بنائیں ، پھر آپ جو کچھ فیصلہ کردیں اس کے بارے میں اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اس کے آگے مکمل طورپر سرِتسلیم خم کردیں ۔ (مکاتیب مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص ۲۶ مکتوب ۳) فائدہ:حضرتؒ کے فرمان کاحاصل یہ ہے کہ اصل تبلیغ توصرف دوامر کی ہے، یعنی اصل مقصود دو چیزیں ہیں باقی اس کے طریقے اور ذرائع ہیں ، ایک روحانی ایک مادّی، روحانی سے مرادحضرتؒ کی یہ ہے کہ ہر موقع پر شریعت کے سامنے اپنے جذبات اور اپنی خواہشات کو قربان کردینا جس کو رسول اللہﷺ نے اس حدیث میں بیان فرمایا ہے: لَایُومِن اَحَدَُکُمْ حَتّٰی یَکُونَ ہَواہَُ تَبْعاً لِمَا جِئتُ بِہٖ(مشکوۃ شریف) یعنی کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہشات وجذبات اس دین وشریعت کے تابع نہ ہوجائیں جس کو میں لے کرآیاہوں ، حضرتؒ