دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
صَرف ہوگیا، اس وقت کسی بزرگ نے نہ کھینچا، اب میں بوڑھا ہوگیا، اور کسی نئے کام کی ہمّت و طاقت نہیں رہی تو حضرت مجھ سے اپنا کام لینا چاہتے ہیں ، اب میں کسی کام کا نہیں رہا ہوں ۔ حضرت نے ارشاد فرمایا: اگر فی الحقیقت پہلے آپ یہ سمجھتے تھے کہ آپ میں کچھ طاقت وقوت ہے اور آپ کچھ کرسکتے ہیں تو اس وقت آپ اللہ کے کام کے قابل نہ تھے، اور اگر آپ کو یہ یقین ہوگیا ہے کہ آپ میں کوئی قوّت وطاقت نہیں ہے اور آپ کچھ بھی نہیں کرسکتے ہیں تو اب ہی آپ اللہ کے کام کے قابل ہوئے ہیں ۔ (حوالہ مذکور)اللہ کی مدد آنے کی شرط فرمایا: اللہ کا کام کرنے اور ا س کی مدد کے مستحق ہونے کے شرائط میں سے یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو بالکل عاجز ولاچار سمجھے اور صرف اللہ ہی کو کارساز یقین کرے، اس کے بغیر مدد نہیں ہوتی، حدیث قدسی میں ہے کہ : ’’میں انہی کے ساتھ ہوں جن کے دل ٹوٹے ہوئے ہیں ۔‘‘ (ملفوظات حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ ص۱۳۸ ملفوظ ۱۵۹)اس کام میں اللہ کی نصرت کی شرط فرمایا:مولوی صاحب ! اللہ کا وعدہ ہے کہ یہ کام ہوگا، اور اللہ کی مدد اس کو اتمام تک پہونچائے گی، مگر شرط یہ ہے کہ( اخلاص کے ساتھ اور اصولوں کی پابندی کے ساتھ کام ہو، اور) اس کے وعدۂ نصرت پر کامل یقین اور بھروسہ کے ساتھ اس سے نصرت(اور امداد) مانگتے رہو، اور اپنی امکانی کوششوں میں کمی نہ کرو۔ (مولانا محمد الیاس صاحبؒ اور ان کی دینی دعوت ص : ۱۷۲)دعوت وتبلیغ کا الہامی طریقہ اور آیت تبلیغ کی الہامی تفسیر فرمایا: خواب نبوّت کا چھیالیسوا ں حصہ ہے، بعض لوگوں کو خواب میں ایسی ترقی