دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
ترجمہ:اے رسول تما م ان باتوں کی تبلیغ فرمادیجئے جو آپ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں ۔ اور ظاہر بات ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر جو احکام و مضامین نازل کئے گئے ہیں وہ ہزاروں سے زائد ہیں ان سارے مضامین اور احکام کی تبلیغ واجب ہے ، اب رہی یہ بات کہ کون سی تبلیغ کس پر واجب ہے؟ سو اس میں تفصیل ہے ، بعض احکام ومضامین ایسے غامض اور دقیق ہوتے ہیں کہ عوام الناس کی سطح وفہم سے بالاتر ہوتے ہیں ، علماء ہی اس کی پوری حقیقت کو سمجھ سکتے اور سمجھا سکتے ہیں ، ایسے مضامین کی تبلیغ علماء پر فرض ہے ، اور بہت سے احکام آسان اور عام فہم ہوتے ہیں ان کی تبلیغ ہر مرد مسلم پر فرض ہے، جیسے چھ نمبر کی تبلیغ لیکن اس میں بھی ضرورت اور حالات کے لحاظ سے تفصیل ہوگی، اپنے خاص متعلقین اور قریبی لوگ جن کی اصلاح کی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی ہے، اور جن کی وجہ سے قیامت میں ان سے باز پرس ہوگی ان کو تبلیغ کرنا فرض ہے، اسی دائرہ میں اپنے گھر کے علاوہ قریبی رشتہ داراور پڑوسی بھی آتے ہیں ، باقی سارے عالم کے لوگوں کو تبلیغ کرنا ہر شخص پر درجہ وجوب میں نہیں بلکہ مستحب اور افضل ہے ، آدمی اپنی صلاحیت اور حالات واستطاعت کے مطابق ہی اس کا مکلف ہے۔ باقی اپنی اصلاح کے لئے مروجہ تبلیغ میں نکلنا ،تو جس شخص کی اصلاح اس کام میں لگنے اور نکلنے پرہی موقوف ہواور اس کے بغیر اس سے فرائض اور واجبات کی ادائیگی اورمحرّمات سے بچنا مشکل ہو، اس کے علاوہ کوئی دوسراآسان راستہ ان کے لئے قابل عمل نہ ہو ایسے لوگوں کے لئے بھی اپنی اصلاح کے لئے حسبِ ضرورت تبلیغ میں نکلنا واجب ہوگا ۔ واللہ اعلماس کام کے صدیوں تک جاری رہنے کی تمنّا اور دعاء حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒحضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں :