دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
حکومت و سیاسی اقتدار مسلمانوں کا مقصود اصلی نہیں ، دین کے ساتھ اگر ہم کو حکومت مل جائے تو ہم کو اس سے ہٹنانہیں چاہئے فرمایا:بھائیو:ہم رسول کریم ﷺکے راستہ سے صرف بھٹکے ہی نہیں بلکہ بہت زیادہ بھٹک گئے ہیں ،کبھی حکومت یا اورکسی قسم کا سیاسی اقتدار مسلمانوں کا مقصد نہیں ہو سکتا،رسول کریم ﷺ کے راستہ پر چلتے ہوئے اگر حکومت مل جائے تو اس سے ہمیں ہٹنا نہیں لیکن یہ ہمارا مقصد ہرگز نہیں ،بس اس راہ میں ہمیں سب کچھ بلکہ جان تک بھی مٹا دینا ہے۔ (مولانا محمد الیاسؒ اور ان کی دینی دعوت ص۱۶۳)تبلیغ میں بیماری ، پریشانی اور تکلیف کا لاحق ہونا بھی قابلِ مبارکباد اور باعثِ ترقیٔ درجات ہے حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ تحریر فرماتے ہیں : خاکسار تحصیل فتحپور تبلیغی سلسلہ میں گیا تھا وہاں بارش میں بھیگنے کی وجہ سے سینہ میں درد اور بخار ہوگیا، مولانا کو اس کی اطلا ع ہوئی ، مولانا نے اس اطلاع پر یہ گرامی نامہ تحریر فرمایا: جناب سید ابوالحسن علی صاحبؒ کی علالت مزاج سے رنج وملال ہوا، دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ صحت عاجلہ کاملہ سے ممنون فرماویں ، اور خود بیماری بھی جو صلحاء کے لئے ایک نعمت ہے ، جب تک یہ مقدر ہے اس وقت تک بیماری سے بذریعہ رضا بقضاء اور بذریعہ تکفیرِ سیئات کے یقین کے متمتع فرماویں ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ اس پر مبارک باد دوں کہ اس چودہویں صدی میں محض خلوص ، جہد فی سبیل اللہ والا سفر مرض کا سبب ہوا، ھل انت الا اصبع دمیت ٭ وفی سبیل اللہ ما لقیت