دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
کردیا، اس لئے اس رسالہ ’’فضائل تجارت‘‘ کے ساتھ حضرت شیخ ؒنے بعض دوسرے رسائل دیکھنے کی بھی ہدایت فرمائی ہے چنانچہ فضائل تجارت کے اخیر میں صفحہ ۸۲ میں تحریر فرماتے ہیں : ’’حضرت تھانویؒ نے ان معاملات میں ایک رسالہ’’صفائی معاملات‘‘ کے نام سے لکھا ہے اس میں تجارت کی بہت سی جزئیات الگ الگ لکھی ہیں ، اس کو مطالعہ میں رکھنا بہت مفید ہے۔‘‘ (فضائل تجارت ص ۸۲) لیکن حضرت تھانویؒ کا یہ رسالہ’’ صفائی معاملات‘‘ بہت سے احکام فقہیہ پر مشتمل ہے ،کسی عالم کی رہنمائی ہی میں اس کا مطالعہ اور اس کی تعلیم ان شاء اللہ زیادہ مفید ہوگی۔ حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒنے تبلیغی کام کے پختہ ہوجانے کے بعد کاروباراور تجارت کو شرعی طریقہ کے مطابق انجام دینے اور دین کے اس شعبہ کی طرف توجہ کرنے کی خصوصی ہدایت فرمائی ہے، اور اسی غرض سے فضائل تجارت جیسی کتاب لکھنے کا حضرت شیخ ؒ کو حکم دیا، حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒکا جو مقصد تھا اورتجارت وغیرہ سے متعلق اپنے دعوتی ساتھیوں کو شریعت کا جو پیغام پہنچانا چاہتے تھے، بڑے بسط وتفصیل کے ساتھ احادیث مبارکہ کی روشنی میں یہ کام اللہ تعالیٰ نے حضرت مولانامحمد منظور نعمانیؒ سے لیا ہے، چنانچہ’’ معارف الحدیث‘‘ کی ساتویں جلد معاشرت ومعاملات اور تجارت وغیرہ کے فضائل واحکام پرہی مشتمل ہے اور نہایت آسان اسلوب میں عام فہم ہے، جس کی تعلیم میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوگی،حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒکے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کتب فضائل اعمال کے ساتھ’’ فضائل تجارت ‘‘کی بھی تعلیم شامل کی جائے کیوں کہ حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒکے حکم ہی سے یہ کتاب اسی غرض کے لئے حضرت شیخ ؒ نے تصنیف فرمائی تھی اور حضرت شیخ ؒ ہی نے ضرورت کے پیش نظر ’’صفائی معاملات‘‘ (تصنیف کردہ حضرت تھانویؒ) سے استفادہ کی بھی ہدایت فرمائی ہے،