دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
کے ہر شعبہ میں اور فردومعاشرہ کی عملی زندگی میں دین کا زندہ ہوجانا علم دین کے بغیر ناممکن ہے، علم سے روشنی اور راستہ ملے گا اس راستہ پر چل کر ہی ہر شعبہ کا دین زندہ کیا جاسکتا ہے، علم دین اور علم شریعت کے بغیر عملی زندگی کو شریعت کے مطابق لانا ممکن ہی نہیں ، اسی وجہ سے حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒنے اپنے تبلیغی چھ نمبروں میں تیسرے نمبر’’ علم وذکر‘‘کو بڑی اہمیت دی ہے۔ لیکن علم کا دائرہ بہت وسیع ہے، اس کے اس وسیع تر دامن سے وابستہ ہونا ایک مشکل کام تھا، علم وشریعت کے مختلف بابوں میں سے کس باب سے داخل ہوا جائے اور کتاب وسنت کی تشریح اور دین وشریعت کی ترجمانی میں کس کی عقل وفہم اور تعبیر پر اعتماد کیا جائے ؟یہ ایک نہایت اہم اور مشکل سوال تھا، فضائل کے تعلق سے اور فضائل کی حدتک تو حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒنے شیخ الحدیث حضرت مولانامحمدزکریا صاحبؒ کو مامور فرماکر فضائل نماز، فضائل قرآن، فضائل تجارت وغیرہ کتابیں لکھوائیں اور حضرت ہی کے زمانے میں ان کی تعلیم بھی شروع ہوگئی تھی، لیکن فضائل بذات خود مقصود نہیں بلکہ اصل مقصود کا ذریعہ ہیں اصل چیز جو مطلوب ہے وہ تو پوری شریعت پر عمل کرنا اور زندگی کے ہر شعبہ میں پورے دین کو زندہ کرنا ہے، اس میں عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت، اخلاق، سارے ہی شعبے آتے ہیں ان شعبوں سے متعلق بھی احکام شریعت کا علم ہونا ضروری ہے، اس کے لئے کتاب وسنت اور احکام شریعت کو سمجھنے میں کس کی عقل وفہم اور کس کی تعبیر وتشریح پر اعتماد کیا جائے یہ اہم سوال ہے، حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒکے ذہن میں اس کا ایک پورا خاکہ تھا جیسا کہ ان کے مکاتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فضائل کے علاوہ دوسرے موضوعات پر کتابیں بھی لکھوانا چاہتے تھے چنانچہ حضرت مولاناسید ابوالحسن علی ندویؒ کے نام ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں : ’’ بندۂ ناچیز ایک امر کا بڑا متمنی ہے کہ تبلیغ کے سلسلہ میں یہ چند کتابیں (جزاء الاعمال،