قیامت کے میدان میں سب جمع ہوں گے۔
عقیدہ (۶): میدانِ محشر کی پریشانیوں اور تکلیفوں سے گھبراکر سب لوگ پیغمبروں کے پاس سفارش کرانے جائیں گے، کوئی بھی شفاعت کو تیار نہ ہوگا، آخر میں ہمارے پیغمبر ا سفارش کریں گے؛ تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرمادے، یہی ’’شفاعتِ عظمیٰ‘‘ ہے، جو آپ ہی کے لئے ہے۔
عقیدہ (۷): ترازو قائم کی جائے گی، سب اچھے برے اعمال تولے جائیں گے، ان کا حساب ہوگا، میزان یعنی ترازو اور وزنِ اعمال یقینی ہے، اس کی کیفیت ہمیں معلوم نہیں ، نیکوں کے نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں اور بروں کے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دئے جائیں گے۔
عقیدہ (۸): اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ہمارے پیغمبر ا کو ’’حوضِ کوثر‘‘ دیں گے، جس سے آپؐ اپنی امت کو شربت پلائیں گے، جو دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، جو ایک مرتبہ پئے گا تو پھر کبھی اس کو پیاس نہیں لگے گی۔
عقیدہ (۹): اللہ تعالیٰ جہنم کے اوپر ایک پل قائم کریں گے جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا، تمام لوگوں کو اس پر چلنا ہوگا، جو نیک لوگ ہیں وہ اس سے گذر کر جنت میں پہنچ جائیں گے، ایمان اور نیکیوں کے اعتبار سے گذرنے کی کیفیت الگ الگ ہوگی، اور جو برے ہیں وہ اس پر سے دوزخ میں گرپڑیں گے۔
عقیدہ (۱۰): اللہ تعالیٰ کی اجازت سے پیغمبر، ولی اور فرشتے ایمان والوں کے حق میں سفارش کریں گے، جس سے بعضوں کے درجے بلند ہوں گے اور بعضے بغیر حساب جنت میں جائیں گے، اور بعضے دوزخ سے نکل کر جنت میں جائیں گے، اور بعضوں کے لئے عذاب ہلکا ہوجائے گا۔
عقیدہ (۱۱): دوزخ پیدا ہوچکی ہے، جوکہ کافروں اور مشرکوں ہی کے لئے تیار کی گئی ہے، وہ