کے لئے لڑائی شروع ہوئی، جس میں اورنگ زیب عالمگیر کامیاب ہوئے، ۱۶۵۸ء میں اورنگ زیب نے حکومت سنبھالی، اور سیاسی حکومت ومصلحت سے اپنے والد کو آگرہ کے قلعے میں نظر بند کردیا، جہاں ۸؍سال بعد ۱۶۶۶ء میں شاہ جہاں کی وفات ہوئی، چوں کہ اورنگ زیب کا بڑا بھائی دارا شکوہ بددین تھا، باپ کی حمایت اس کو حاصل تھی، باپ کا رویہ اورنگ زیب کے ساتھ ظالمانہ تھا، اس لئے مصلحت باپ کو نظر بند کرنے میں تھی، لیکن اس کے باوجود اورنگ زیب نے باپ کے ساتھ بے حد حسن سلوک کیا، ہندوستان کی پوری اسلامی تاریخ میں اورنگ زیب سب سے نیک، خدا ترس، اور ایمان دار بادشاہ تھا، غیرمسلم مؤرخین نے اس پر ہندؤوں کے ساتھ بد سلوکی کا الزام لگاکر بہت بدنام کیا ہے، حالاں کہ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہے، خود اورنگ زیب کی فوج میں بہت سے ہندو اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔
اورنگ زیب نے ۴۸؍سال حکومت کی، اور خلافت راشدہ کے طرز پر حکومت چلانے کی پوری کوشش کی، اس کا دائرۂ حکومت آسام کے سندھ اور کشمیر سے کیرالہ تک وسیع تھا، ساتھ ہی وہ بڑا علم پرور تھا، فقہ کی مشہور کتاب ’’فتاویٰ عالمگیری‘‘ اس نے مرتب کرائی، ۱۷۰۷ء میں اس کا انتقال ہوا، اس کے بعد اس کا بیٹا معظم شاہ (عرف شاہ عالم بہادر شاہ ) حاکم بنا، اس کی اپنے بھائی اعظم کے ساتھ لڑائی ہی، جس میں اعظم قتل ہوا، اور یہیں سے مغلیہ سلطنت کا خاتمہ شروع ہوا، شاہ عالم کے بعد معز الدین جہاں دار حاکم بنا، جسے ایک سال میں ہی اس کے بھتیجے کے لڑکے فرخ سیر نے قتل کرایا، اور ۱۷۲۱ء میں حکومت سنبھالی، مگر کچھ ہی عرصے میں فرخ سیر بھی مارا گیا، پھر رفیع الدرجات، رفیع الدولہ اور محمد شاہ نے باری باری اقتدار سبنھالا، محمد شاہ کے دور میں ۱۷۳۸ء میں ایران کے نادرشاہ نے ہندوستان پر زبردست حملہ کیا اور خوب قتل وغارت گری کی، مغلیہ حکومت کمزور ہوتی گئی، متعدد ریاستوں میں بغاوتیں اور خود مختار حکومتیں بن گئیں ، گجرات اور مہاراشٹر پر مرہٹوں کا قبضہ ہوگیا، ۱۷۴۸ء میں