۲۔ لَمْ مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کرتا ہے۔ جیسے: لَمْ یَضْرِبْ (نہیں مارا اس نے)۔
۳۔ لَمَّا بھی مضارع کو ماضی منفی کے معنی میں کرتا ہے۔ اور لَمْ اور لَمَّا میں فرق یہ ہے کہ لَمْ نزدیک اور دور کی قید کے بغیر نفی کرتا ہے اور لَمَّا میں زمانہ تکلم تک نفی دراز ہوتی ہے۔ جیسے: لَمَّا یَضْرِبْ (اب تک نہیں مارا اس نے)۔
۴۔ لامِ امر فعلِ مضارع کو امر بناتا ہے۔ جیسے: لِیَضْرِبْ (چاہیے کہ مارے وہ)۔
۵۔ لائے نہی فعلِ مضارع کو نہی بناتا ہے۔ جیسے: لا تَضْرِبْ (مت مار تو)۔
فائدہ: ان کے علاوہ کچھ کلماتِ شرط اور بھی ہیں جو مضارع کو جزم دیتے ہیں، وہ یہ ہیں: لَوْ، أَمَّا، مَنْ، مَا، أَيٌّ، مَتیٰ، أنّٰی، أَیْنَمَا، مَہْمَا، إِذْمَا، حَیْثُمَا۔
مشقی سوالات
۱۔ حروف عاملہ کی تعریف بیان کرو۔
۲۔ حروفِ عاملہ کتنی قسم کے ہیں اور کیا ہیں؟
۳۔ حروف ِجر کی تعریف مع مثال بیان کرو۔
۴۔ حروف جر کا کیا عمل ہے؟
۵۔ مجرور کس کو کہتے ہیں؟
۶۔ حروفِ جر کتنے ہیں اور کیا ہیں؟
۷۔ ب کے نو معنی مثالوں کے ساتھ بیان کرو۔
۸۔ ل کے تینوں معنی مثالوں کے ساتھ بیان کرو۔