دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
یقول ان الاسلام بنی علی خمس شہادۃ ان لاالہ الاللہ واقام الصلوۃ ایتاء الزکوۃ وصیام رمضان، وحج البیت۔ قال السند ھیؒ: کان ابن عمر فہم ان السائل یری الجہاد من ارکان الاسلام فاجاب بما ذکر(مسلم شریف کتاب الایمان حدیث نمبر: ۱۱۴،فتح الملہم ج ۱، ص۴۸۶) بلاشبہ دعوت وتبلیغ بھی جہاد کے بعض انواع میں شامل ہے جیسا کہ ماقبل میں گذرا لیکن جہاد کے اعلیٰ فرد سے اس کادرجہ کم ہے، جب اس اعلیٰ جہاد کو اسلام کے بنیادی ارکان میں سے نہیں قرار دیا جاسکتا تو اس سے کم درجہ کے انواعِ جہادکو ارکانِ اسلام میں کیسے قرار دیا جاسکتا ہے ، البتہ توسعاً ومجازاًفرائضِ اسلام یا واجباتِ اسلام وغیرہ کی توجیہ سے اس کو ارکانِ اسلام کہنے کی گنجائش ہوسکتی ہے ، اورحضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے بھی اسی مجازی معنیٰ کے اعتبار سے ہی فرمایا ہوگا، ورنہ حقیقی معنی کے لحاظ سے حضرت مولانا ؒکایہ فرمان حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی مذکورہ حدیث کے خلاف ہو جائے گا۔واللہ تعالیٰ اعلم حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ کا مقصد یہ ہے کہ اسلام کی صرف پانچ بنیادوں ہی پر اکتفاء نہ کرو، پانچ بنیادوں کے ساتھ جہاد بھی اسلام کا عظیم الشان رکن یعنی فرض ہے، اس کی بھی اہمیت سمجھو۔ کم از کم اپنے عقیدہ میں اس کو فرض سمجھو، البتہ اس فرض کی ادائیگی کے لئے کچھ شرائط ہیں ،اگر شرائط پائے جائیں گے تو اس کا وجوب ہوگا ورنہ اس جہادکی اجازت نہ ہوگی۔ اس سے مراد وہی جہاد ہے جو جنگ وقتال پر مشتمل ہو اس کے لئے قوتِ قاہرہ والا امام یعنی امیر المؤمنین ہونا شرط ہے ورنہ اس کی اجازت نہیں ،البتہ دوسرے انواعِ جہاد کے لئے وہ شرائط ضروری نہیں جو قتال کے لئے ہیں ،دعوت وتبلیغ اور مدرسوں میں تعلیم وتعلّم،علماء کے اصلاحی بیانات بھی اسی جہاد میں شامل ہیں ۔