دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
پیغام کو عام کرنے ، معروفات کو پھیلانے ، منکرات کو ختم کرنے کے لئے اصلاحی مجالس اور وعظ و تقریر کے پروگراموں کا سلسلہ ہونا بھی ضروری ہے، احکام شرعیہ کو بتلانے اور پھیلانے کے لئے دارالافتاء و دارالقضاء کے نظام کو قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ آپ کی بعثت کا مقصد اور اہم کام تزکیۂ نفوس اور اصلاح باطن بھی ہے اس کے لئے مشائخ اور خانقاہ کاوجود بھی ضروری ہے، ملکی سطح پر جو احکامِ اسلام وشعائر ِاسلام خطرہ میں ہوں ان کی حفاظت کے لئے اسی شان کے مطابق جدوجہد کرنا مثلاًاس جیسے ملک میں مسلم پرسنل لاء کی حفاظت یہ بھی ضروری ہے۔ دعوت و تبلیغ کے مقاصد میں جب شریعت کا پھیلانا اور اس کی حفاظت کرنا ہے تو اس مقصد کی تکمیل کے لئے ان کے اسباب کو اختیار کرنا اور ان سارے کاموں کو کرنا بھی ضروری ہوگا جن کا تذکرہ ماقبل میں ہو ااس کے بغیر تبلیغ کا مقصدپورا نہیں ہوگا، اللہ تعالیٰ ہم سب کو صحیح سمجھ اور اس کے مطابق عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ خلاصہ یہ کہ دعوت وتبلیغ کے دو مقصد حضرت مولانا محمد الیاس صاحبؒ نے بتلائے ہیں ،ایک انفرادی و خصوصی ، دوسرے اجتماعی و عمومی، انفرادی وخصوصی تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خصوصی نسبت اورخاص تعلق قائم ہوجائے جو اتباع شریعت اور اتباع سنت کے بغیر نہیں ہوسکتا ، دوسرا مقصد عمومی یہ ہے کہ اس کام کی محنت سے پوری شریعت پھیل جائے یعنی زندگی کے تمام شعبوں میں پوری شریعت عام اور فافذ ہوجائے، مثلاً عبادات کے شعبوں میں جملہ عبادات نماز ، روزہ ،حج وغیرہ سب زندہ ہوجائیں ، معاملات کے شعبوں میں تجارت، شرکت، مضاربت،ملازمت، کھیتی، باغات وغیرہ میں شریعت کی جو تعلیمات واحکام ہیں انہیں کے مطابق سارے کام انجام دئیے جائیں ، معاشرت اور گھریلو زندگی کے تعلق سے شریعت کے جو احکام ومسائل ہیں ان کے مطابق معاشرہ میں عمل ہونے لگے، ایک دوسرے