دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
’’ ان حالات میں بڑی ضرورت تھی کہ اس اصلاح وتجدید کے خاکے کو جس کو ایک مصلح وقت اپنی تصنیفات ورسائل میں سپرد کرگیا ہے اور جن پر زبان کی کہنگی اور طریق اداکی قدامت کا پردہ پڑاہے، ان کو موجودہ زمانہ کے مذاق اورتقریر وتحریر کے نئے انداز کی روشنی میں اجاگر کیا جائے۔(مقدمہ تجدید دین کامل ص۲۲) الحمدللہ! ہندوپاک میں متعدد علماء نے علامہ سید سلیمان ندویؒ کی بیان کردہ ضرورت کے مطابق حضرت تھانویؒ کی تصانیف پر تسہیل وترتیب کا کام کیا ہے، بعض نے بعض کتب کو لیا، بعض نے بعض موضوعات کو لیا ہے، مثلاً حضرت مولاناعبدالباری ندویؒ، حضرت ڈاکٹر عبدالحی صاحبؒ، مولانامفتی محمد شفیع صاحبؒ ان حضرات نے حضرت تھانویؒ کے علوم معارف اور تصانیف پر تسہیل اور انتخاب وترتیب کا کام کیا ہے،اس نوع کی ان اکابرکی متعدد تصانیف ہیں ضرورت کے مطابق ان کی کتابوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ الحمدللہ خود احقر نے بھی اسی نوعیت کا کام کیا ہے، ایک طرف تو حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒ کے جملہ ملفوظات ومکتوبات اور دعوت وتبلیغ سے متعلق ہدایات وآداب جو حضرت مولانامحمد الیاس صاحبؒنے بیان فرمائے ہیں ، سب کو جمع کرکے مختلف رسائل تیار کئے ہیں جن کے متعلق حضرت مولاناسید محمد رابع حسنی دامت برکاتہم(ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ) تحریر فرماتے ہیں : مولانامحمد زیدصاحب حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے افادات پر عرصے سے کام کررہے ہیں اور کئی مطبوعات ان کی آچکی ہیں اور داد تحسین لے چکی ہیں ، انھوں نے اس کام کی طرف بھی توجہ کی اور اس کام کے بانی حضرت مولانامحمد الیاس صاحب کے افادات جمع کئے جو کئی کتابوں کی صورت میں سامنے آئے، ان میں یہ مجموعہ بھی ہے جو قارئین کے سامنے پیش ہے اس سے انشاء اللہ اس کام کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ ہوگا اور بعض دیگر فائدے بھی سامنے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے، آمین۔ (مقدمہ دعوت وتبلیغ کے اصول وآداب)