دعوت و تبلیغ کی اہمیت و ضرورت اور اس کے مقاصد |
ww.alislahonlin |
|
حضرت شیخ ؒ نے مدینہ پاک میں اس رسالہ کو دوبارہ ازسرنو تحریر فرمایا اور الحمدللہ اس کی تکمیل بھی ہوگئی، اور ’’فضائل تجارت‘‘ ہی کے نام سے شائع بھی ہوا اس رسالہ کے مقدمہ میں حضرت شیخ فرماتے ہیں : ’’ چچاجان مجددتبلیغ حضرت مولانامحمدالیاس صاحب دہلویؒ نوراللہ مرقدہٗ کے تعمیل ارشاد میں اس ناپاک وناکارہ کے قلم سے فضائل اعمال کے سلسلے میں چند رسائل شایع ہوچکے ہیں اور ان کے ارشاد کی برکت سے اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے مفید بھی ہوئے اور بہت کثرت سے شائع ہورہے ہیں ۔‘‘ ’’انہوں نے اپنی حیات کے آخر میں دورسالوں کے لکھنے کا بہت زور سے حکم فرمایا تھا ایک انفاق فی سبیل اللہ، اور دوسرافضائل تجارت ان دونوں میں سے فضائل انفاق تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے عرصہ ہوا لکھا جاچکا اور فضائل صدقات کے نام سے شائع ہوا۔‘‘ (مقدمہ فضائل تجارت ص۴،۵) فضائل تجارت لکھے جانے کے وقت میں حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ خود اپنا حال تحریر فرماتے ہیں کہ: ’’مدینہ منورہ کے چند سالہ قیام میں مدرسہ کی مشغولیت تو نہ رہی مگر اس کے بجائے امراض نے گھیر لیا، مگر جب چچاجان کے تاکیدی حکم کا خیال آتا ہے تو اپنی عدم تعمیل پر بہت قلق ہوتا ہے، چند ماہ سے بہت ہی امراض نے گھیر رکھا ہے کوئی (بڑا) علمی کام تو ہوہی نہ سکا،بار بار اس رسالہ کی یاد ستاتی رہی، آج ۱۷؍ذی الحجہ ۱۳۹۹ھ چہار شنبہ میں مسجد نبوی میں اس کی بسم اللہ تو کرادی…اگرچہ اُس وقت جو مضمون ذہن میں تھا وہ تو یاد رہا نہیں اور وہ مسودہ بھی نہیں ملا، اس لئے از سرنو اب بسم اللہ کرائی اور تبرکاً ابتداء میں حضرت حکیم الامت مولانامحمد اشرف علی تھانوی نوراللہ مرقدہٗ کی بہشتی زیور کا ایک مضمون نقل کروارہا ہوں جس کو حضرتؒ نے بہشتی زیور کے ضمیمہ میں کسبِ حلال کے عنوان سے درج فرمایا ہے۔ ( مقدمہ فضائل تجارت س۵،۶)