تھا۔ اس کا دوسرا ایڈیشن غیرمعمولی اضافے اور ترمیم کے ساتھ ۲۰۰۸ء میں فرید بک ڈپو دہلی سے شائع ہوا جو ۳۶۰ صفحات پر مشتمل تھا،جس کی تفصیلات یہ تھیں :
(۱) یہ رودادِ سفریعنی پہلی اشاعت کی روداد مؤلف کے پہلے حج (۱۴۰۹ھ مطابق ۱۹۸۹ء) کی ہے، اس کے بعد مؤلف کو کئی بار اس سفر سعادت کی توفیق بخشی گئی ، اور انھوں نے ان اسفارپر جو کچھ تاثرات تحریر فرمائے اسے بھی جزوِ کتاب بنادیا گیا ہے۔
(۲) دوسراحج مؤلف نے ۱۴۱۱ھ مطابق ۱۹۹۱ء میں کیا ، اس کی روداد بھی شامل ہے۔
(۳) ۱۴۱۷ھ مطابق ۱۹۹۷ء کے سفر حج میں …جو منیٰ کی بھیانک آتشزدگی کی وجہ سے تاریخی اہمیت کاحامل ہے…احقر مرتب کو بھی معیت وہمراہی کی سعادت حاصل تھی ، اس سال کی روداد احقر کے قلم سے شامل کتاب ہے۔
(۴) چوتھا حج ۱۴۲۳ھ مطابق ۲۰۰۳ء میں کیا، اس کی روداد بھی شامل کتاب ہے۔
(۵) ۱۴۲۶ھ مطابق ۲۰۰۶ء کے سفرحج میں مؤلف کے دوست الحاج نوراﷲ صاحب دربھنگوی ہمراہ تھے ، اس سال کی رودادسفر ان کے قلم سے ہے ۔
(۶) ۱۴۲۷ھ مطابق ۲۰۰۶ء میں مؤلف چھٹی مرتبہ حج کے لئے تشریف لے گئے ، اورواپسی کے بعد قدرے تفصیل سے انھوں نے احوال سفر ماہنامہ ضیاء الاسلام کے لئے تحریر فرمائے ، اسے بھی جزو کتاب بنادیا گیا ہے۔
(۷) حج کے سلسلے میں مؤلف کی ایک اہم تحریر دوتین سال قبل ’’سفر حج ‘‘ بے اعتدالیاں اور ان کی اصلاح‘‘ کے نام سے شائع ہوچکی ہے ،اور بڑی اہمیت کی حامل ہے، اسے بھی اس کی اہمیت کے پیش نظرکتاب کا جزو بنادیا گیا ہے۔
(۸) تین شخصیتوں کا تذکرہ مؤلف نے بڑے والہانہ اور غیرمعمولی انداز میں کیا ہے۔ ایک اپنے شیخ ومرشد حضرت مولاناعبد الواحد صاحب دامت برکاتہم ، دوسرے احقر کے والد ماجد الحاج عبد الرحمن صاحب علیہ الرحمہ ،تیسرے حضرت مولاناعبد اﷲ صاحب مہاجرمدنی علیہ الرحمہ۔ بعدمیں مؤلف کے قلم سے ان تینوں حضرات پر تفصیلی مضامین شائع ہوئے ، انھیں بھی شامل کتاب کردیا گیا، اب یہ ایڈیشن ۳۶۰؍ صفحات پر مشتمل ہے ۔