طبع دوم کے بعد تین مرتبہ مزید حضرت مولف مرحوم ومغفور اس سفر سعادت سے بہرہ ور ہوئے، ۲۰۰۷ء، ۲۰۰۸ء اور ۲۰۱۱ ء میں ۔
۲۰۰۷ء کی روداد انھوں نے ڈائری کے انداز پر ’’سفر قدس‘‘ کے عنوان سے خاصی تفصیل کے ساتھ لکھی جو ماہنامہ ضیاء االاسلام میں شائع ہوئی۔
۲۰۰۸ء والے سفر میں اس حقیر کو دوبارہ ہمرکابی کی سعادت حاصل ہوئی، اس سال کی روداد میں نے لکھی۔
۲۰۱۱ء میں حضرت مولف کے چھوٹے صاحبزادے مولانا محمدعرفات سلّمہ کو معیت کا شرف حاصل تھا ، میری گزارش پر اس سال کی روداد انھوں نے لکھی ، اس طرح مولف مرحوم نے اب تک جتنے سفر کئے سب کی روداد اس کتاب میں آگئی ہے، شاید اس حیثیت سے یہ پہلا سفرنامہ حج ہوکہ کسی کے تمام اسفارحج کی روداد۔۔۔۔۔۔۔ اجمالاً ہی سہی ۔۔۔۔۔۔قلم بند کی گئی ہو۔
گزشتہ اشاعت میں جن تین بزرگوں کے تذکرے شامل اشاعت کئے گئے تھے ضخامت کے بڑھ جانے کی وجہ سے اس اشاعت میں شامل نہیں کئے گئے ، وہ مولف کی کتاب ’’کھوئے ہوؤں کی جستجو۔۔۔۔۔ میں ہیں ، اسے وہاں ملاحظہ کرلیاجائے۔
گزشتہ اشاعت میں ضمیمہ کے طور پر کتاب کے اخیر میں ’’سفر حج :بے اعتدالیاں اور ان کی اصلاح‘‘ شامل اشاعت تھی ، اسے باقی رکھا گیا ہے اور ضمیمے میں ایک اور تحریر شامل کی گئی ہے جو ۲۰۰۸ء کے حج کے بعد لکھی گئی تھی ،’’سفر حج : حجاج کرام سے کچھ گزارشیں ‘‘یہ تحریر بھی ضمیمہ کی پہلی تحریر کی طرح بے حد اہمیت کی حامل ہے۔
اس امید کے ساتھ یہ تحریریں شائع کی جارہی ہیں کہ ان کو پڑھ کر اس اہم عبادت یعنی حج کا صحیح ذوق پیدا ہو، اور اس سفرسعادت کے کیا تقاضے اور مطالبے ہیں ان سے آگاہی حاصل ہو اور ان پر عمل کا جذبہ بیدارہو۔
باری تعالیٰ اس کاوش کو شرفِ قبولیت سے نوازیں ،اور جو نیت وارادہ اس کی اشاعت سے ہے اسے پورا فرمائیں اور اس کے ذریعہ اپنی اور اپنے دونوں محترم دیار کی محبت