ہے ، آب زمزم، اور مدینہ شریف کا ایک تحفہ ہے ، کھجوریں ۔ ان کے لئے بکثرت فضولیات ہوتے ہیں ، ان فضولیات میں لوگ از حد پریشان ہوتے ہیں ، میں یہ نہیں کہتا کہ سامانوں کی خریداری غلط ہے ، لیکن فلائٹ کا اصول اور اپنی اوقات تو دیکھنی چاہئے ، پھر سفر حج سے ایک عبادت اور تقدس کا جو تاثر ہوتا ہے ، سامانوں کی کثرت سے وہ تاثر مجروح ہوجاتا ہے۔
حج کے اخراجات:
حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ ان سے عمرہ کے متعلق نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا:
’’ إن لک من الاجر علیٰ قدر نصبک ونفقتک ۔
تمہیں تمہاری تکان اور اخراجات کے بقدر اجرملے گا( رواہ الحاکم وقال صحیح علیٰ شرطہا)
یعنی حج وعمرہ میں ظاہر ہے کہ بدن کو تکان بہت ہوتی ہے ، بسا اوقات آدمی کا جسم چور چور ہوجاتا ہے ، اسی طرح اس میں مالی اخراجات بھی بہت ہوتے ہیں ، ان دونوں چیزوں سے آدمی گھبراتا ہے ، آپ نے اس گھبراہٹ کو خوشی سے بدل دیاکہ جس قدر تکان ہوگی اور جتنا مال خرچ ہوگا ، عبادت کا ثواب بڑھتا جائے گا۔
حضرت بریدہ ص سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ا نے فرمایا :
النفقۃ فی الحج کالنفقۃ فی سبیل اﷲ الدرھم بسبعمأئۃٍ ، رواہ الطبرانی فی الاوسط۔( الترغیب ووالترہیب ،ج:۲،ص:۸۰) حج میں اخراجات کا ثواب ، فی سبیل اﷲ جہاد میں اخراجات کے برابر ہے ، یعنی ایک درہم کا سات سو درہم۔
بعض اوقات حجاج کو خرچ کی زیادتی کی شکایت ہوتی ہے ، یا حج کے دوران منیٰ ، عرفات، مزدلفہ اور مکہ مکرمہ کی آمد ورفت میں چونکہ ازدحام بہت ہوتا ہے ،ا زدحام کی وجہ سے سڑکوں پر گاڑیاں دوڑتی اور چلتی نہیں ، بلکہ رینگتی ہیں ، کبھی کبھی دس منٹ کا راستہ طے کرنے میں گھنٹوں لگ جاتے ہیں ، بارہا ایسا ہوا کہ عرفات سے مزدلفہ آنے میں پانچ پانچ چھ چھ گھنٹے