۲۴؍ ذی الحجہ ۱۴۲۸ھ،۲؍جنوری۲۰۰۸ء(بدھ):
حاجی بابو نے اطلاع دی کہ سلامتی وسہولت کے ساتھ بچہ تولد ہوا، اﷲ تعالیٰ اسے صحت وعافیت کے ساتھ نیک و صالح بنائیں ۔(۱)
آج شام کو عزیزم مولوی محمد فاروق سلّمہ کے یہاں دعوت ہے ، میرے مخدوم زادہ بھائی قمرالدین صاحب بن حضرت الاستاذ مولانا شمس الدین الحسینی مبارکپوری نور اﷲمرقدہٗ گھر گئے ہوئے تھے ، وہ اب آگئے ہیں ، انھیں فون کرکے میں نے دعوت دے دی تھی ، وہ بھی تشریف لائے ، مفتی عبد الرحمن صاحب بھی تھے ، اختر سلّمہ اپنی گاڑی سے لے گئے تھے ، پھر گیارہ بجے واپسی ہوئی۔
۲۵؍ ذی الحجہ،۳ ؍جنوری:
آج صبح ۹؍ بجے سے کچھ پہلے اختر سلّمہ اپنی گاڑی لے کر مکہ مکرمہ کو چلے ، دس بجے سے پہلے بلڈنگ پر خیر وعافیت سے پہونچ گئے ۔ گاڑی سے اترتے ہی کلکتہ سے مولانا ابوالخیر صاحب سلّمہ کا فون آیا، دوسری باتوں کے ساتھ ایک اندوہناک حادثے کی خبر دی ، ان کے ساتھی مولوی مجاہد الاسلام سیتا مڑھی، جنھوں نے مدرسہ دینیہ غازی پور میں مجھ سے تعلیم حاصل کی ہے ، پانچ چھ دن پہلے اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے ، کہ باہر شور سنائی دیا ، وہ معلوم کرنے کے لئے کہ کیا بات ہے ، باہر نکلے ، جونہی باہر نکلے ، ایک گولی ان کے سینے میں لگی اور وہ گرگئے ، صبح تک روح پرواز کرگئی ۔ إناﷲ وإنا إلیہ راجعون، وہاں ڈکیتی پڑرہی تھی ، یہ گھر سے باہر نکلے تو ڈاکوؤں نے دیکھتے ہی گولی چلادی ، ساتھ میں ان کا چھوٹا بھائی ذاکر بھی تھا ، اس پر بھی گولی چلائی ، مگر وہ بچ گیا ، اﷲ تعالیٰ اس شہید کی مغفرت فرمائے ، اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہونچائے۔
(۱) یہ میرا بچہ محمود ضیاء سلّمہ ہے ،حضرت الاستاذ مرحوم کی دعاؤں کے اثرات اﷲ کا شکر ہے کہ اس کے اندر محسوس ہورہے ہیں ،ابھی سے لکھنے پڑھنے اورنماز وغیرہ کی طرف رغبت دیکھ کر دل خوش ہوجاتا ہے، اﷲ تعالیٰ حضرت کی دعا پورے طور پر اس کے حق میں قبول فرمائیں ۔آمین