حج کی فضیلت رسول اکرم ا نے نہایت جامعیت کے ساتھ بیان کردی ، یہ بیان محتاج تشریح نہیں ہے ، البتہ یہ معلوم کرلینا چاہئے کہ جس حج کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے، اس کی کیا شان ہونی چاہئے ۔
حج کیسا ہو؟ قرآن کریم کا ارشاد:
حج کے متعلق قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے:{اَلْحَجُّ أَشْھُرٌ مَّعْلَوْمٰتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَارَفَثَ وَلَافُسُوْقَ وَلَاجِدَالَ فِی الْحَجِّ ( سورۃ البقرۃ : ۱۹۷) حج کے چند متعین مہینے ہیں ، تو جس کسی نے ان مہینوں میں حج کا التزام کیا، تو اس میں نہ رفث ہے ، نہ فسق ہے ، اورنہ لڑائی جھگڑا ہے) رفثکے معنی بیوی سے صحبت کرنے کے ہیں ، اسی حکم میں بیوی سے شہوت کی باتیں بھی ہیں ، حالت احرام میں اس کی بالکل گنجائش نہیں ہے۔ فسوق کے معنی نافرمانی اور معصیت کے ہیں ،حج کا التزام کرلینے کے بعد اور بالخصوص حرم میں حاضر ہونے کے بعد ،معصیت اور حق تعالیٰ کی نافرمانی شدید تر ہوجاتی ہے ، اور اس سے حج خراب ہوجاتا ہے۔ جدال کے معنی لڑنے جھگڑنے کے ہیں ، حضرت عبد اﷲ بن عمر، حضرت عبد اﷲ بن مسعود، حضرت عبد اﷲ بن عباس ث سے منقول ہے کہ حج میں جدال یہ ہے کہ گالی گلوج کرے ، برا بھلا کہے، کسی سے ایسی بحث وتکرار کرے کہ اس کو غصہ آجائے۔
حاجی ان تینوں چیزوں سے بچنے کا اہتمام کرے گا ، تو اس کا حج، حج کہلائے گا ، ورنہ سفر کی مشقت ، مال کا صرفہ ہی ہاتھ آئے گا،اور حج مجروح ہوکر رہے گا ، حضرت جابر بن عبد اﷲ ص نے رسول اﷲ ا کا ارشاد نقل کیا ہے کہ :
من قضیٰ نسکہ وسلم المسلمون من لسانہ ویدہ غفر لہ ماتقدم من ذنبہ۔ (تفسیر ابن کثیر بحوالہ عبد بن حمید )جس نے ارکان حج ادا کئے ،اور مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہے ، اس کے سب گناہ معاف ہیں ۔
اس شان کا حج ، حج مبرور کہلاتا ہے، رسول اﷲ ا نے فرمایا :
من حج فلم یرفث ولم یفسق رجع من ذنوبہٖ کیومٍ ولدتہ