بنیادوں میں سے ایک بنیاد ہے، اس کا انتظام ہر شخص کو خود کرنا ہے ، اور اس کا جو قدم بھی اس سفر میں اٹھے گا وہ نیکی اور عبادت ہوگا ، حاجی جب گھر سے نکلتا ہے ، اور جب تک واپس ہوتا ہے ، یہ سارا وقفہ مسلسل عبادت اور طاعت میں گزرتا ہے۔
حج اور سفر حج کے فضائل بہت ہیں ، جن کا تذکرہ احادیث کے ذخیروں میں بکثرت کیا گیا ، یہاں ہم ایک جامع حدیث کا ترجمہ لکھتے ہیں ، جس سے حج اور سفرحج کی فضیلت نہایت عمدگی کے ساتھ واضح ہوتی ہے، یہ حدیث سیّدنا عبد اﷲ بن امیر المومنین سیّدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے ، اور اسے صاحب ترغیب و ترہیب نے طبرانی کی المعجم الکبیر اور بزار کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ میں منیٰ کی مسجد (خیف ) میں حضور سرور عالم ا کی خدمت میں حاضر تھا ، اتنے میں دوآدمی آپ کی خدمت میں حاضرہوئے ۔ ایک انصاری اور ایک قبیلہ بنی ثقیف کا ، انھوں نے سلام کے بعد عرض کیا ، یا رسول اﷲ! ہم آپ کے حضور کچھ پوچھنے کے لئے آئے ہیں ، آپ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں خود بتاؤں کہ تم کیا پوچھنے آئے ہو؟ اور اگر چاہو ، تو میں نہ کہوں تم خود ہی بتاؤ! ان دونوں نے عرض کی حضرت ! آپ ہی ارشاد فرمائیں ، پھر ثقفی نے انصاری سے کہا ، آپ کہئے ، انھوں نے درخواست کی ، اے اﷲ کے رسول ! بتائیں ، آپ نے فرمایا کہ تمہارا سوال یہ ہے کہ تم جو اپنے گھر سے بیت اﷲ کے قصد سے نکلے ہو ، اس میں تمہارے لئے کیا اجر ہے ؟ اور طواف کے بعد جو دورکعت پڑھوگے اس کا ثواب کیا ہے ؟ اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کروگے ، اس میں تمہیں کیا ملے گا ؟ اور وقوفِ عرفہ میں کیا حاصل ہوگا؟ اور جمرات کی رمی میں کیا ملے گا؟ اور قربانی کروگے ، تو اس کا اجر کیا ہوگا؟ اور طوافِ افاضہ کی کیا شان ہے؟
انھوں نے عرض کیا ، قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، انھیں سوالات کے لئے میں حاضر خدمت ہواہوں ۔ فرمایا:
(۱) جب تم بیت اﷲ الحرام کے قصد سے گھر سے نکلے ہو ، تو تمہاری اونٹنی نے جو بھی