قدم زمین پر رکھا یا زمین سے اٹھایا، ہر ایک پر اﷲ نے تمہارے لئے ایک نیکی لکھی ، اور ایک خطا معاف فرمائی۔
(۲) اور طواف کے لئے جو دورکعت تم نے پڑھی، تو یہ ایسا ہے ، جیسے تم نے اولاد اسماعیل ں میں سے دو غلام آزاد کئے ۔
(۳) اور تم نے صفاومروہ کے درمیان جو سعی کی ، وہ ایسا ہے جیسے تم نے ستر غلام آزاد کئے۔
(۴) اور وقوف عرفہ کی شان یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں ، اور فرشتوں کو مخاطب کرکے فخرسے فرماتے ہیں کہ میرے بندے ، میرے حضور میں پراگندہ بال دوردراز اور گہرے راستوں سے چل کر آئے ہیں ، اور جنت کی آس لگائے ہوئے ہیں ، تو (اے بندو!) اگر تمہارے گناہ ریت کی تعداد کے برابر یا بارش کے قطروں کے مانند ، یا سمندر کی جھاگ کے مثل بھی ہوں گے تب بھی ان کی مغفرت کردوں گا۔ میرے بندو! تم بخشے بخشائے یہاں سے جاؤ، تمہاری بھی بخشش ہے، اور جن کی تم سفارش کروگے ان کی بھی بخشش ہے۔
(۵) اور تمہاری رمی کا اجر یہ ہے کہ ہر کنکری جسے تم نے پھینکا ہے، اس سے ایک ایک مہلک گناہ کبیرہ کی معافی ہے۔
(۶) اور جو قربانی تم نے کی ہے ، وہ تمہارے رب کے پاس ذخیرہ ہے۔
(۷) اور جو تم نے سر منڈوایا ، تو سنو! ہر بال کے عوض ایک نیکی ہے ، اور ایک خطا کی معافی ہے۔
(۸) اور اس کے بعد جو تم نے طواف(زیارت) کیا ، تو اس طرح تم نے طواف کیا کہ تمہارے ذمے کوئی گناہ نہیں ۔ ایک فرشتہ آتا ہے، اور تمہارے دونوں کندھوں کے درمیان ہاتھ رکھتا ہے ، اور کہتا ہے ، اب پھر سے ازسر نو عمل شروع کرو ، پچھلے سب گناہ معاف ہوچکے ہیں ۔( الترغیب والترہیب ،ج:۲، ص: ۷۷)