حاجیوں کی سہولت کے جو انتظامات کئے ، وہ بس اﷲ کی خاص مہربانی ہے ، ایسا انتظام ہے کہ شاید اس سے زیادہ سوچا نہ جاسکے ، یہ حکومت اپنی پوری توانائی حج وعمرے کے عازمین کی سہولت اور آسائش کے لئے صرف کرتی ہے ، ایک مستقل وزارت اس خدمت کے لئے ہے، جو سال بھر اسی موضوع پر کام کرتی رہتی ہے۔
پانچواں ادارہ فلائٹوں کا ہے ۔ حج کے لئے دو طرح کی فلائٹوں کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں ۔ ایر انڈیا اور سعودی ایرویز۔ سعودی ایرویز کی شکایتیں توکم سننے میں آتی ہیں ، پچھلے سال کچھ شکایات تھیں ، مگر ایر انڈیا نے تو پچھلے سال اور اس سال ستم کی حد توڑدی ۔ ایر انڈیا سے حاجیوں کو بہت پریشانی ہوئی ، پچھلے سال سامانوں کی پریشانی بہت رہی ، اس سال فلائٹیں اتنی لیٹ تھیں کہ حاجیوں کا سارا نظام بگڑا رہا ، اس پر حج کمیٹی اور حکومت ہند کو خاص توجہ دینی چاہئے۔
اب حاجی صاحبان کی خدمت میں کچھ معروضات پیش کرنی ہیں ، اور اس مضمون کے اصل مخاطب وہی ہیں ، کیونکہ دوسرے ادارے جو حجاج کی خدمت کے لئے وجود میں آئے ہیں ، ان کے معاملات،ان کے مشکلات اور ان کے مسائل ہماری پہونچ سے ماوراء ہیں ۔ ان کی اصلاح ، ان کی درستگی اور ان کے مسائل کا حل اربابِ سیاست اور اصحابِ حل وعقد کرسکتے ہیں ، ہم تو ان کی خدمات پر ممنونیت کا اظہار کرسکتے ہیں اور جو کچھ ان کی کوتاہیاں معلوم ہوتی ہیں ان کو صبر وضبط سے انگیز کرلیں گے ، اور اسی کی تلقین دوسروں کو بھی کریں گے ، اگر چہ جس نظریہ کا چلن ہے ،وہ ہماری اس روش کو شاید پسندنہ کرے ، مگر مجبوری ہے ، ہم بھی اپنی خو کیوں بدلیں ؟
عازمین حج کا سفر کسی سیر سپاٹے، تفریح ودل لگی یا تجارت وکسب معاش کیلئے نہیں ہوتا، وہ اﷲ کی عبادت کے لئے نکلتے ہیں ، یہ عبادت ایسی ہے جو اپنے گھر ، اپنے وطن میں رہ کر کسی سے ادا نہیں ہوسکتی ۔ یہ سفر محض عبادت کا، محض نیکی کا، محض اﷲ کی رضا کیلئے ہوتا ہے ، اﷲ نے استطاعت دی ہے ، وسائل مہیا ہیں ، تو ان پر فرض ہے کہ یہ سفر کریں ۔ یہ اسلام کی