پاس بس آتی رہی اور لوگ روانہ ہوتے رہے ، مگر ہمارے خیمے کے سامنے حجاج کی بھیڑ لگی رہی ، مگر بس نہیں آئی ۔ عشاء کا وقت ہوگیا ، بہت سے لوگ پیدل اور کئی لوگ پرائیویٹ سواریوں سے نکل گئے ۔ ہمارا قافلہ چھ آدمیوں پر مشتمل تھا ، ہمارے علاوہ اعظم گڈھ سے پانچ حاجی صاحبان اور تھے ، جو معمر اور بزرگ تھے ، خیمہ میں عشاء کی نماز ادا کی ، اور پیدل نکل کھڑے ہوئے ، تھوڑی دور جاکر اﷲ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوئی ، اور ایک نیک دل سعودی نے اپنی گاڑی پر بیٹھا لیا ، ہجوم کی وجہ سے قدرے دیر توہوئی مگر نہایت آرام سے اپنی قیامگاہ پر پہونچ گئے ، یہاں بھی معلم کی بد انتظامی تھی ۔
اس کے علاوہ ایک بد انتظامی اور ہوتی ہے کہ منیٰ میں خیموں میں جتنی گنجائش ہوتی ہے ، اس سے ڈیڑھ گنے آدمی بھر دئے جاتے ہیں ، اس سے بعض اوقات بڑی پیچیدگی ہوتی ہے ، ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ لوگ کہتے ہیں کہ اس طرح وہ اپنے خیموں میں جگہ بچاکر بڑی بڑی رقمیں دوسرے لوگوں سے وصول کرتے ہیں ۔ والعلم عند اﷲ
یہ شکایتیں تو بے شک بجا ہیں ، تاہم ان کی وجہ سے حجاج کو بہت سی سہولتیں بھی ہوتی ہیں ، منیٰ اور عرفات میں خیمہ لگانے کی ذمہ داری ان کی ہوتی ہے ، لیجا نا اور لے آنا ان کے فرائض میں ہے ، کسی کسی وقت کھانے کا انتظام بھی کرتے ہیں ۔
تیسرا ادارہ حکومت ہند کا ہے ، ہم حاجیوں کی خدمت کے باب میں حکومت ہند کی ستائش کریں گے ، حکومت حاجیوں کی خدمت بہت فراخدلی سے کرتی ہے ، ہوائی جہاز کے رعایتی کرایہ سے لے کر حاجیوں کے دوا علاج اور ان کی مشکلات کے حل کے لئے مستقل محکمہ قائم کررکھا ہے ، ’’انڈین حج مشن ‘‘ کے تحت سیکڑوں کارکن اور ڈاکٹر مصروف خدمت ہوتے ہیں ، دوائیں مفت مہیا کی جاتی ہیں ، حکومت کی ان رعایتوں کی وجہ سے اہل ہند کا حج دوسرے ممالک کے مقابلے میں کافی ارزاں ہوتا ہے ، اﷲ تعالیٰ جس سے چاہے اپنے بندوں کی سہولت کا سامان کردے۔
حجاج کی خدمت کے لئے چوتھا ادارہ سعودی حکومت کا ہے ، اس حکومت نے