میں یہ نہیں کہتاکہ معلمین سے کوتاہی نہیں ہوتی ، بعضے امور ضرور رُونما ہوجاتے ہیں جنھیں بجز معلم کی غلطی کے کچھ نہیں کہا جاسکتا ، مثلاً پچھلے سال کے حج میں منیٰ سے جب عرفات کو روانگی ہورہی تھی تو ایک معلم کے کارندوں نے رات کو ۱۲؍ بجے کے بعد سے ہنگامہ شروع کیاکہ عرفات چلو ، عرفات چلو ، لوگ دوڑ دوڑ کر جانے لگے ، بعض لوگوں نے بلکہ زیادہ تر حجاج نے سوچا کہ فجر کی نماز پڑھ کر روانہ ہوا جائے ، فجر کی نماز کے بعد جب خیموں کے گیٹ کی جانب چلے تو معلوم ہواکہ گیٹ بند ہے ، گیٹ کیپر سے بہت خوشامد کی گئی ، مگر اس نے نہیں کھولا، خیال ہوا کہ آفس میں کوئی ذمہ دار ہوگا ، اس سے بات کی جائے ، مگر آفس خالی تھا ، گیٹ پر ایک بھیڑ تھی ، مگر نہ بس آرہی تھی ، نہ گیٹ کھل رہا تھا ، یہاں تک کہ سروں پر تیز دھوپ آگئی ، مگر بہرا گونگا گیٹ کیپر بے حس تھا ۔ دھوپ میں کھڑے کھڑے دس بج گئے ، معلم کی بس نہ آتی نہ آئے ، مگر گیٹ تو کھلے کہ لوگ پرائیویٹ سواریوں سے ، یا ہمت والے پیدل ہی نکل جائیں ، مگر ساڑھے دس بجے تک گیٹ نہیں کھلا ، ساڑھے دس بجے جب عرفات جانے کا وقت تنگ ہوگیا اور حجاج نے شور مچایا، تو اس نے یہ کہہ کر گیٹ کھولاکہ اب بس نہیں آئے گی ۔ میں اور میرا بیٹا محمد عادل سلّمہ دونوں پیدل چل دئے، ایک کیلومیٹر چلنے کے بعد ایک پرائیویٹ گاڑی ملی ، اس نے پچیس پچیس ریال مانگے ، ہم عجلت میں اس پر بیٹھ گئے ، اس نے عرفات میں پہونچایا ۔ مگر قدرے تاخیر ہوچکی تھی ، اس نے جہاں اتارا ، وہاں کیاکریں ، اپنے دوست مفتی عبد الرحمن سلّمہ کو فون کیا ، وہ بھاگے ہوئے آئے اور اپنے خیمے میں لے گئے۔
یہ جو بحران پیش آیا ، یہ یقینا معلم کی بد انتظامی تھی ، اور مزید یہ کہ وہ ایسے بے حس اور سرپھرے کارندوں کو متعین کردیتے ہیں جو کوئی رعایت کرنا ، یا عقل سے کام لینا جانتے ہی نہیں ۔
اس سال ۱۲؍ ذی الحجہ کو جب منیٰ سے مکہ مکرمہ کو روانگی تھی ، ہمارے خیمے میں اعلان ہوا کہ بس مغرب بعد آئے گی ، لوگ منتظر رہے ، مگر بس نہیں آئی ،آس پاس کے خیموں کے