ہمارا قافلہ تو بفضلہ تعالیٰ بنارس کے ایک دیندار اور مخیر تاجر، ہمارے پرانے محب ومحبوب جناب الحاج منظور احمد صاحب … اﷲ تعالیٰ انھیں رحمتوں اور برکتوں سے نوازے رہے … کا مہمان تھا ، اور وہ اور ان کے سعید وصالح صاحبزادگان بہت خوش اسلوبی اور انشراح سے مہمان نوازی میں لگے رہے ، خیر قدرے انتظار کے بعد ۳۱؍ اکتوبر کو وہ پاسپورٹ ویزا کی سابقہ خرابی کے ساتھ ممبئی سے آگیا ، اور ہمارا قافلہ یکم ؍ نومبر کو مدینہ شریف کے لئے روانہ ہوگیا، اور کسی دشواری کے بغیر رسول اﷲ ا کے قدموں میں حاضر ہوگیا۔
آمدم برسر مطلب ! اس سا ل بھی حجاج کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ، نوعیت بدلی ہوئی تھی ، مگر پریشانی برقرار رہی ، میں ان پریشانیوں کو تفصیل سے بیان نہیں کرنا چاہتا ، بلکہ یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان پریشانیوں کا منبع کیا ہے ؟ اور کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ حجاج کا یہ سفر عبادت ٹھیک ان کی خواہش کے مطابق ہوجائے؟
حج کے سفر میں دورِ حاضر میں پانچ ادارے مصروف عمل ہوتے ہیں ۔ حج کمیٹی، حکومت ہند ، معلمین، سعودی حکومت اور فلائٹوں کا ادارہ ، اور ان تمام اداروں کی خدمات عازمین حج کے انتظامات سے متعلق ہوتی ہیں ۔ یہ پانچوں ادارے عازمین حج کی خدمت میں لگے ہوتے ہیں ۔
عازمین حج کی خدمت کے لئے ایک پرائیویٹ ادارہ بھی مصروفِ عمل ہوتا ہے ، اور وہ ہے ٹور کارپوریشن ۔ اس کے متعلق ہم آئندہ کبھی گفتگو کریں گے ۔
اس سال جو پہلی دشواری عازمین حج کے سامنے آئی ، وہ وقت پر پاسپورٹ نہ ملنے کی تھی ، اس میں یا تو حج کمیٹی سے قصور ہوا ہے کہ اس نے جہازوں کی تاریخ کا اور بکنگ کا اعلان تو کردیا ، مگر ویزا وقت پر حاصل نہ کرسکی ، یا سعودی قونصلیٹ کا قصور ہے کہ اس نے ویزا جاری کرنے میں سستی کی ، حج کمیٹی تو یہی کہتی ہے ، اب اﷲ جانے کس کا قصور ہے ۔ بنارس میں تو حجاج کی طرف سے بے صبری کا اظہار نہیں ہوا ، یا ہوا تو کم ہوا۔ مگر لکھنؤ میں بہت ہوا ، اور اس بے صبری نے معاملہ کو اس حد تک بگاڑ دیا کہ پریشانی کا سلسلہ حرمین شریفین تک