سفر کے کاغذات حاصل کرلیجئے ، ۳۰؍ کی صبح ساڑھے گیارہ بجے فلائٹ ہے ۔ یہ قافلہ ۲۹؍ اکتوبر کو مغرب کی نماز کے بعد حج آفس بنارس پہونچ گیا، کاؤنٹر پر حاضری ہوئی تو اطلاع بخشی گئی کہ قافلہ کے ایک فرد کے ویزے میں تصویر کے اندر کچھ نقص ہے ، اس لئے وہ پاسپورٹ بمبئی مرکزی حج کمیٹی کے دفتر سے نہیں آیا ہے ، کس ذوق وشوق سے یہ قافلہ بنارس گیا تھا کہ کل شام تک مدینہ منورہ کی پاک سرزمین کا دیکھنا نصیب ہوگا، اور اب حال یہ ہے کہ پوچھنے پر لاعلمی ظاہر کی جارہی ہے کہ معلوم نہیں کب وہ ویزا درست ہوگا ، اور کب آئے گا۔ صبر تو کرنا ہی تھا ۔ مگر سوچئے جس ذوق کے ساتھ لوگ گھر سے نکلے تھے اس کا کتنا کڑا امتحان تھا ، صبر ہوتو کیسے ہو؟ بنارس سے بمبئی فون پر رابطہ کیا گیا ، وہاں سے صبر کی تلقین کی گئی ، پھر رات گزرنے کے بعد معلوم ہواکہ اس آزمائش میں صرف ہمارا ہی قافلہ نہیں ، بہت سے لوگ ہیں ،بس ؎
ہم ہوئے ، تم ہوئے کہ میرؔ ہوئے اس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے
پھرمعلوم ہوا کہ لکھنؤ سے پہلی فلائٹ سے جولوگ جانے والے تھے ، ان کے پاسپورٹ ہی سرے سے نہیں آئے ہیں ، وہاں تو حجاج کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوکر چھلک گیا ، شور شرابہ ، گتھم گتھا ، جس سے جو ہوسکا ، اس نے کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں کی پہلی فلائٹ جاہی نہ سکی ۔
خیر لکھنؤ میں جو ہوا، اس سے وہاں کی مشکلات میں کچھ کمی نہیں آئی ، کچھ اضافہ ہی ہوا۔ ہم بنارس میں تھے ، بنارس میں عارضی حج ہاؤس جو بناتھا ، وہ ناتمام حالت میں تھا ، جو حجاج آگئے تھے اور ان کی روانگی میں کوئی رکاوٹ ہوگئی ، انھیں خاصی مشکلات کا سامناتھا ، حاجیوں کے ساتھ ایر پورٹ تک پہونچانے والوں کی بھی ایک بڑی تعداد آتی ہے ، اب ان سب کے ٹھہرنے کا، کھانے پینے اور اس کے اخراجات کا مسئلہ ! اچھا خاصا درد سر! اورپھر یہ بھی نہیں معلوم کہ یہ مشکل کب آسان ہوگی ؟ حج ہاؤس میں کب تک رہنا ہوگا، لوگ پریشان تھے۔