دراز ہوگیا ۔
حجاج کرام کی زبانی حج کمیٹی کی شکایتیں بہت سننے میں آتی ہیں ، اس میں شبہ نہیں ، کہ کچھ کوتاہیاں ایسی ضرور ہوں گی جن کا الزام حج کمیٹی پر چسپاں ہوگا ، مگر یہ سوچنا چاہئے کہ ایک لاکھ سے زیادہ عازمین حج کے سفر کی تمامتر کارروائی حج کمیٹی کرتی ہے ، بیرون ملک سفر کی جونزاکتیں ہیں ، اسے وہی جانتے ہیں جنھیں اس طرح کے سفر کا سابقہ پڑتا ہے ۔ حج کمیٹی ان تمام نزاکتوں سے عہدہ برآ ہوکر حاجیوں کو تمام دستاویزات مہیا کرتی ہے ، تب یہ نہایت آسانی سے بغیر کسی تردد اور کاوش کے ہوائی جہاز پر بیٹھ جاتے ہیں ، اور جدہ یا مدینہ شریف میں بسہولت اتر جاتے ہیں ، ورنہ اگر یہ سارے کام خود عازمین حج کے ذمے کردئے جاتے تو صدہا مشکلات میں گرفتار ہوتے ، اور بڑی تعداد میں لوگ سفر بھی نہیں کرسکتے ، خود پاسپورٹ بنوانے کا مرحلہ ایک ہمالیہ طے کرنے سے کم نہ ہوتا ، اﷲ جانے کتنے اخراجات ہوتے ، کتنی مشکلوں سے پاسپورٹ بنتا ،پھر اس پر ویزے کا مسئلہ اور جانکاہ ہوتا ۔ کتنا دوڑنا پڑتا ، کتنے مصارف ہوتے ، پھر یہ ہفت خواں طے ہوتا ، تو ہوائی جہاز کی سیٹ بک کرانے کا قصہ درپیش آتا، پھر سفر ، سفر سے واپسی! حج کمیٹی کے ذریعے سب مرحلے آسان ہوگئے ۔ ایک فارم بھرا، متعینہ رقم ادا کی ، منظوری ہوئی ۔ اب پاسپورٹ بنوانا، ویزا حاصل کرنا ،ہوائی جہاز کے آمدورفت کی سیٹ بک کروانا، پرواز کی جگہ متعین کرنا ،اور حجاج کی مدد اوررہنمائی کے لئے خدمات کو پیش کرنا ، یہ سب حج کمیٹی کی ذمہ داری ! عازم حج نے پاسپورٹ حاصل کیا اور حرمین شریفین پہونچ گیا ۔ وہاں مکان نہیں تلاش کرنا ہے ، کرایہ نہیں طے کرنا ہے ، یہ سب مرحلے حج کمیٹی اور دوسرے ادارے مل کر طے کرچکے ہوتے ہیں ۔ حاجی نامزد بلڈنگ اور اس کے متعین شدہ کمرے میں جاکر بستر کھول دے ، بلکہ بستر کھلا ہوا پاجائے۔
اتنے بڑے انتظام میں کچھ کوتاہی ہوجائے ، کچھ کسی کے حق میں کمی رہ جائے ، تو وہ قابل درگزر ہے ۔ دیکھنا یہ چاہئے کہ مجموعی اعتبار سے اس کا کردار کیسا رہا؟ اگر ہر شخص اپنے ارادے اور خواہش کے پیمانے پر حج کمیٹی کے عمل کو پرکھنے لگے ، تو حج کمیٹی جیسا ایک محدود