نَفْسِیْ تَقْوَاھَا وَ زَکِّھَا اَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکّٰھَا ، اَنْتَ وَلِیُّھَا وَمَوْلَاھَا۔ ترجمہ : اے اللہ میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرمائیے ، اور اس کا تزکیہ فرمائیے ۔ آپ اس کا بہترین تزکیہ فرمانے والے ہیں ۔ آپ ہی اس کے ولی اور مولیٰ ہیں
دوسری چیز جس کا اہتمام حاجی کو بہت کرنا چاہئے ، وہ یہ ہے کہ اپنے رفقاء میں کسی سے ہرگز نہ الجھے ، الجھنیں بہت پیش آتی ہیں ، ان الجھنوں میں کشمکش اور بے صبری ہرگز نہ کریں ، خاموشی سے جھیل لیں ۔ الجھن بھی ختم ہوگی ، اور ثواب بھی ملے گا ، معلم کی طرف سے یا اپنے رفقاء کی طرف سے جب بھی کوئی الجھن پیش آئے اور آپ کو یہ محسوس ہوکہ آپ کی حق تلفی ہو رہی ہے تو رسول اللہ اکی یہ حدیث یاد کیجئے ، اس پر عمل شروع کر دیجئے ، نسخۂ شفا ہے۔
عن ابن مسعود رضی اﷲ عنہ ان رسول اﷲ ﷺ قال : انما ستکون بعدی اثرۃ و امور تنکرونھا قالوا:یا رسول اﷲ فما تامرنا ، قال: تودون الحق الذی علیکم و تسالون اﷲ الذی لکم ( بخاری ومسلم)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ا نے ارشاد فرمایا کہ میرے بعد ترجیحات ہوں گی ، اور ایسے کام ہوں گے جنہیں تم اجنبی جانوگے ، لوگوں نے عرض کیا کہ اس وقت ہمارے لئے آپ کا کیا حکم ہے؟فرمایا جو کچھ تمہارے ذمہ دوسروں کا حق ہو ، اسے ادا کرود، اور جو تمہارا دوسروں پر حق ہو ، اس کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرو ۔
یہ بہت ہی بیش قیمت نصیحت ہے ، جب ہم دوسروں کا حق ادا کرکے اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوں گے تو خود بخود رحمت الٰہی متوجہ ہوگی ، اس وقت جب بندہ خدا سے اپنے حق کا سوال کرے گا تو ان شاء اللہ سارے کام سدھرتے چلے جائیں گے ۔ اس بات کی عام زندگی میں تو ضرورت ہے ہی، خاص طور سے سفر میں اس کی بہت زیادہ ضرورت پڑتی ہے ۔ اگر حاجی اس اصول کو مضبوطی سے تھام لیں تو شکایتوں کا بڑا حصہ خود بخود فنا ہوجائے گا ۔
ہندوستانی حاجیوں کو اس بات کا بھی بہت خیال رکھنا چاہئے کہ وہاں ساری دنیا