ضائع نہیں کرتے ۔ یعنی باوجودیکہ ان میں سے اکثر چیزیں (مثلاً بھوک ، پیاس لگنا یا تکلیف پہونچنا) اختیاری کام نہیں ہیں ۔ تاہم نیت جہاد کی برکت سے ان غیر اختیاری چیزوں کے مقابلے میں اعمال صالحہ ان کی فرد حسنات میں درج کر دئیے جاتے ہیں ، جن پر خدا اجر نیک مرحمت فرمائے گا ۔ (فوائد عثمانی)
جہاد ہی کی طرح حج بیت اللہ کا سفر بھی اللہ کی راہ کا سفر ہے ، اللہ تعالیٰ کے ایک فریضہ کی تعمیل اور تکمیل کیلئے حاجی اپنے گھر سے نکلتا ہے تو بلا شبہ جتنی مشقتیں اور کلفتیں ، اس راہ میں پیش آئیں گی، وہ سب اعمال صالحہ بن بن کر نامہ اعمال کو وزنی بناتی چلی جائیں گی ۔ لیکن آدمی نے اگر بے صبری کی، لوگوں کی شکایتوں سے زبان کو آلودہ کیا تو سخت اندیشہ ہے کہ نیکی برباد اور گناہ لازم ہوجائے۔
یہ عام مرض ہے کہ حجاج کرام حکومت پر، معلمین پر، حج کمیٹی کے افراد پر اور ان کے کاموں پر تنقید وتبصرہ کرتے رہتے ہیں ۔ یہ تبصرے عموماً بے ضرورت اور بے مقصد ہوتے ہیں ۔ ان کا ضرر ایک تو یہ ہوتا ہے ، اور یہ بہت بڑا ضرر ہے کہ یہ گفتگو غیبت کے دائرے میں آجاتی ہے ، اور دوسرا ضرر یہ ہوتا ہے کہ مزاج فاسد ہوجاتا ہے۔ طاعات اور عبادات سے طبیعت ہٹ جاتی ہے ،جو ضروری کام ہیں وہ رہ جاتے ہیں اور فضول کاموں میں مشغولیت ہوجاتی ہے۔
سفر کی مشقتوں کو مشقت نہیں عبادت سمجھئے اور اللہ کا شکر ادا کیجئے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، اللہ کے لئے ہو رہا ہے اور اللہ کی راہ میں ہو رہا ہے ، یہاں ہلکی سے ہلکی تکلیف نامہ ٔ اعمال میں وزنی سے وزنی بن کر آئے گی ۔ آج شکایت ہوتی ہے ، کل صبر کرنے والے اتنا عظیم اجر دیکھیں گے کہ مزید تکلیفوں کی تمنا کریں گے۔ زبان بہت سے اعمال کو کھو دیتی ہے ، اسے آلودہ نہ کیجئے ۔ یہ ذکر اللہ اور تلاوت اور لبیک پڑھنے کیلئے ہے ، حکایت و شکایت کیلئے نہیں ہے ۔ کثرت سے دعائیں کیجئے ۔ ایک دعا لکھی جا رہی ہے ۔ اسے بکثرت دہرائیے ، اور ہر مقام قبولیت پر اسے خشوع وخضوع اور استحضارقلب سے دہرائیے : اَللّٰھُمَّ آتِ