طرف سے ، کبھی معلم کی طرف سے ، کبھی سواریوں کی طرف سے ، تو عام عادت کے مطابق حاجی اپنی زبان کو برا بھلا کہنے میں ملوث کرلیتا ہے۔
میں حاجیوں سے یہی کہنا چاہتا ہوں کہ مشقت خواہ کتنی ہی ہو ، تکلیف چاہے جتنی زیادہ ہوجائے ۔ آپ اپنی زبان کو آلودہ نہ کریں ۔ واقعہ یہ ہے کہ اس دور کے انتظام سفر نے سفر کی دشواریوں کو بہت کم کر دیا ہے، لیکن ہماری تن آسانیوں نے ہمارے اوپر آسان مشقتوں کو بھی بھاری بنا دیا ہے ۔ پہلے دور میں سفر کی رفتار سست ہوتی تھی تو آدمی انتظار اور صبر کا خوگر ہوتا تھا۔ اب ہر کام مشینوں اورتیز رفتار سواریوں کی وجہ سے بہت جلد انجام پا جاتا ہے تو آدمی میں صبر کی تاب باقی نہیں رہی ۔ انتظار اسے برداشت نہیں ۔ کوئی کام اگر فی نفسہ مشکل نہیں تو اس کا انتظار ہی بہت دشوار ہوگیا ہے ۔ سواری ملنے میں تاخیر ہوگئی تو بے صبری ، سواری مل گئی اس کے چلنے میں دیر ہوگئی تب پریشانی ، ائیرپورٹ پر قانونی مراحل کی تکمیل میں تاخیر ہوئی تو گھبراہٹ ، معلم کی طرف سے کسی معاملے میں سستی ہوئی تو مصیبت ۔ غرض سفر اپنے اختیار کا تو ہوتا نہیں ، الجھنیں پیش آتی ہی رہتی ہیں ، لیکن یہ خوب سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سفر جو ہوا ہے ۔ صرف اللہ کیلئے ہوا ہے ، اس سے کوئی دنیاوی غرض وابستہ نہیں ہے۔ اس سفر میں جو بھی تکلیف ہوگی ، جس دشواری کا بھی سامنا ہوگا ۔ ان سب سے حسنات میں اضافہ ہی ہوگا۔ گناہ معاف ہوں گے۔ اللہ کی راہ میں متعدد سفر ہوتے ہیں ، ان میں اہم ترین سفر جہاد کا سفر ہے اور حج کا سفر ہے۔جہاد کے سفر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ: ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ لَا یُصِیْبُھُمْ ظَمَأٌ وَلَا نَصَبٌ وَ لَا مَخْمَصَۃٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلَا یَطَؤٗنَ مَوْطِئاً یَغِیْظُ الْکُفَّارَ وَلَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدَوٍ نَیْلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمْ بہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ ( سورہ توبہ: ۱۲۰)ترجمہ : یہ اس واسطے کہ جہاد میں نکلنے والوں کو جو بھی پیاس ، محنت اور بھوک اللہ کی راہ میں پیش آتی ہے ، اور جو بھی کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جس سے کفار کو ناراضگی ہوتی ہو اور جو کچھ بھی دشمن سے چھینتے ہیں ، ان سب کے بدلے ان کے حق میں نیک عمل لکھا جاتا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجرکو