ہے ، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا ہے ، فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَافُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ ، جس شخص نے ایام حج میں اپنے اوپر حج کو لازم کیا تو تو دوران حج نہ رفث ہے ، نہ نافرمانی ہے اور نہ جھگڑا ہے ۔ ’’رفث‘‘ شہوت اور جنسی خواہش اور اس کے متعلقات کو کہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے کہ حج میں جب کہ تمام تر توجہ اور دل کا سارارجحان اللہ کی طرف ہوتا ہے ۔ آدمی شہوت سے اور شہوت کے تقاضوں سے برکنار رہے یہاں اپنے نفس کی خواہش نہیں حکم ربانی کی تعمیل درکار ہے۔نافرمانی کا گذر نہیں ہے، ہر قدم جذبۂ فرمانبرداری سے اٹھے اور ہر سانس اللہ کی یاد میں بسی ہوئی ہو ۔ دل میں اور کوئی بات نہ ہو ۔ بجز اس کے کہ بندہ اپنے مالک کے دروازے پر لو لگائے پڑار ہے ۔ نہ جنسی خواہش کے تقاضے ، نہ اپنے نفس کی حکمرانی اور نہ اپنے رفقاء اور ہم سفروں سے کسی طرح کی الجھن !جس پروردگار کا میں دیوانہ ہوں ، سب اسی کے دیوانے بن کر اسی کے نام پر اسی کے حکم سے مجتمع ہیں ۔ اس حالت میں کیا یہ بات کسی طرح بھی زیب دیتی ہے کہ آدمی اپنی مشقتوں اور قربانیوں کے بعد خاص دربار الٰہی میں پہونچا ہے ۔ اور وہاں جاکر بھی اپنے آپ کو جاں نثاروں اور اطاعت گزاروں میں شامل نہ کر سکے۔
تو آدمی جب حج کے سفر کیلئے نکلے تو جہاں وہ اپنے جسم کواحرام کی پابندیوں سے جکڑتا ہے ، وہیں اپنے دل اور زبان کو بھی احرام کی پابندیوں میں جکڑ دے ، اسے صبروضبط کا خوگر بنائے ، اس سفر میں مشقتیں بہت ہیں ، مشقتوں اور تکلیفوں کی نوعیتیں بدلتی رہتی ہیں ، کبھی خود سفر دشوار تھا ، بہت وقت لگتا تھا ، سواریاں بہت سست رفتار، راستے دشوار گزار ، آسائشیں ناپید ، خطرات کا اندیشہ! یہ اور اس طرح کی زحمتیں رہا کرتی تھیں ۔اب سفر آسان ہو گیا ہے،بہت کم وقت لگتا ہے سواریاں ہوا کی مانند تیز رفتار ہیں ۔ راستے آسان ہوگئے ہیں ۔ آسائش کے سامان ہر طرف بکھرے پڑے ہیں ۔ مگر اب ملکی اور بین الاقوامی قوانین اتنے سخت ہیں کہ آدمی قوانین کے ان جنگلوں کوعبور کرنے میں پریشان ہوجاتا ہے ۔ حج کے مسافر کو جب پریشانی ہوتی ہے اور واقعی کبھی کبھی بہت پریشانی ہوتی ہے ۔ کبھی حج کمیٹی کی