سے دیکھتا بھی تھا،لیکن ہجوم کی شدت کی وجہ سے ہلکی پھلکی کوشش کے باوجود یہ حسرت ، حسرت ہی رہ گئی،شرمندہ تعبیر نہ ہوسکی۔
ریاض الجنۃ میں داخلہ پولیس کی نگرانی میں ہوتا ہے،پولیس والے اتنے ہی افراد کو اندر جانے دیتے ہیں جتنے کی گنجائش ہوتی ہے،ہر نئے داخلہ پر ایک شدید قسم کا ہنگامہ ہوتا اور آوازیں بلند ہوتی تھیں ،لوگ ریاض الجنۃ کی فضیلت حاصل کرنے میں ریاض الجنۃ کی فضیلت بیان کرنے والی شخصیت کو بھول جا تے تھے،دھکا مکی اور آوازیں بلند کر کے اس ذات کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں جن کی راحت رسانی کی فضیلت خود ہزاروں ریاض الجنۃ سے بڑھ کر ہے،جن کی تکلیف کا خیال کرتے ہوئے خود خالق کائنات نے صحابہ کرام کو ،لا ترفعوا اصواتکم ،کی تعلیم دی ہے،یہ کہاں کی عقلمندی ہے کہ محض ریاض الجنۃ میں داخلہ کے لئے حالانکہ اس میں داخل ہونا کوئی ضروری یا واجب عمل نہیں ہے ،اس ذات کے سامنے رفع صوت کیا جائے جن کی ادنی سی تکلیف دہی حبط اعمال کا یقینی سبب ہے۔
یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَرْفَعُوْا اَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّْ وَلَا تَجْہَرُوْا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَاَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ۔
اسی طرح کی نا مناسب صورت حال روضہ اقدس کے سامنے بھی نظر آتی ہے،لوگ روضہ رسول پر درود وسلام کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور اصل کام بھول کر کیمروں میں الجھ جاتے ہیں ،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عبادت کے لئے نہیں کسی آثار قدیمہ کے تماشے کے لئے آئے ہیں ،کیمروں کے فلش چمک رہے ہیں ،تصویر کشی اور ویڈیو سازی ہو رہی ہے،پولیس والے کھڑے دیکھ رہے ہیں ،لیکن خاموش ہیں ،البتہ اگر کوئی روضہ کی طرف رخ کرکے ہاتھ اٹھا ئے اپنے معبود سے دعا و مناجات میں مشغول ہو تو ان کی تیوریوں پر بل پڑ جاتے ہیں ،تیزی سے ہذا حرام کا فتوی داغتے ہوئے اس کی طرف بڑھتے ہیں ،حالانکہ وہ محض تبرک و توسل کے لئے روضہ کی طرف رخ کرتا ہے،اس کا مقصد رسول خدا سے حاجت