کی کثرت رکھو،یہاں جو درود پڑھا جا ئے گا وہ فرشتوں کے توسط کے بغیر براہ راست بارگاہ پاک میں بار یاب ہو گا۔
مدینہ منورہ کے معمولات میں درود اور تلاوت کلام پاک کی کثرت تھی،صبح فجر کی اذان سے قبل ہونٹوں پر درود و سلام کا گلدستہ سجائے مسجد نبوی کی طرف روانہ ہو جاتا،دن درود و سلام اور تلاوت کلام کی مشغولیت میں گزرتا،عشاء کی نماز کے بعد روزانہ اور کبھی کبھار فجر کی نماز کے بعد تقریباً آٹھ بجے روضہ اقدس پر سلام کے لئے حاضر ہوتا،وہیں تھوڑی دیر کسی گوشہ میں بیٹھ کر تلاوت کرتا ،پھر صلوۃ و سلام اور دعا کے بعد قیام گاہ پرآجاتا،عجیب بات یہ دیکھی کہ پہلے دن کی حاضری میں خوف کی جو شدت تھی وہ کیفیت بعد کے دنوں میں باقی نہیں رہی گو کہ سوء ادب کا کھٹکا ہمیشہ لگا رہتا تھا،لیکن اس کے باوجود ایک حاضری کے بعد دوسری حاضری کی خواہش شدید تر ہو جا تی،جی یہی چاہتا کہ دن بھر روضہ کے ارد گرد منڈلاتے رہیں ،یہ خواہش عشاق کی کثرت اور ہجوم کی شدت کی وجہ سے دن بھر کے شدید انتظار کے بعد عشاء کے بعد پوری ہوتی تھی،وہاں پر بیٹھنا ،تلاوت کرنا،ٹکٹکی باندھے جالی کی طرف دیکھتے رہنا،درود وسلام پڑھنا،یہ سب ایسے اعمال تھے جن سے آتش شوق تیز سے تیز تر ہوتی تھی،یہ ایمان میں تازگی ،روح میں بالیدگی اور چہرہ پر شگفتگی پیدا کر دیتے تھے،عشاء کے بعد لوگ طعام و آرام کے لئے قیام گاہ چلے جاتے تھے،ہجوم کی شدت کم ہوجاتی تھی،اطمینان قلب کے ساتھ گھنٹہ آدھ گھنٹہ اس پاک فضا میں با فراغت بیٹھنے ،تلاوت کرنے اور درود وسلام پڑھنے کا موقع ملتا تھا،۔
روضہ اقدس سے متصل ریاض الجنۃ کی جگہ واقع ہے،جس کی خاص فضیلت وارد ہوئی ہے،ریاض الجنۃ کے داخلی دروازہ پر ،ما بین بیتی و منبری روضۃ من ریاض الجنۃ،کا بورڈ آویزاں ہے،روضہ اقدس کی حاضری کے لئے جاتے ہوئے ہمیشہ اس بورڈ پر نگاہ پڑتی تھی،اور دل میں شدید خواہش اس جنت ارضی میں داخل ہونے کی پیدا ہوتی تھی، اور کبھی کبھار دروازہ کے پاس کھڑے ہوکر حسرت سے اس سر زمین کی طرف للچائی ہوئی نگاہ