ضیافت کا کیا ٹھکانہ،نیک ہو کہ بد،چھوٹا ہو کہ بڑاسب پر ان کی ضیافت کا مینہ برستا ہے،ہم لوگ کھانے پینے کے بیشتر لوازمات ساتھ لے کر گئے تھے،لیکن قربان اس سخی ذات کی سخاوت پر ایک دن بھی کھانا پکانے کی نوبت نہیں آئی،جو سامان جیسا بندھا آیا ویسا ہی رکھا رہ گیا،ایسا محسوس ہوتا تھا کہ لوگوں کے قلوب ہماری میزبانی کے لئے مسخر کر لئے گئے ہوں ،ہر وقت دعوت، لوگ کھانا لئے چلے آرہے ہیں ،صبح فجر کی نماز کے بعد قیام گاہ پر پہونچے معلوم ہوا کہ حافظ دلشاد صاحب ناشتہ لئے حاضر ہیں ،حافظ دلشاد صاحب شیخو پور کے قریب ایک چھوٹے سے گائوں کے رہنے والے ہیں ،والد صاحب کے شاگردوں اور عقیدت مندوں میں سے ہیں ،وہیں مسجد نبوی میں خدمت انجام دیتے ہیں ،ہلکے پھلکے جسم کے نہایت متحرک آدمی ہیں ،اللہ انھیں خوب خوب جزائے خیر عطا فرمائے،ان کی موجودگی ہم لوگوں کے لئے باعث رحمت تھی،مدینہ منورہ کے قیام یعنی دس دن پوری مستعدی کے ساتھ ناشتہ لے کر آتے رہے،اور جو دوسری خدمات ہوتیں اس کو انجام دیتے رہے،یہ توناشتہ کا معاملہ تھا ،رہا کھانا تو کبھی حافظ محمد مسعود صاحب لے کر آرہے ہیں ، کبھی مفتی عاشق الہی صاحب کے یہاں دعوت ہے،اور اگر کسی دن کہیں دعوت نہیں تو نسیم بھائی کھانا لے کر حاضر ہیں ،نسیم بھائی کے یہاں دعوت عدم دعوت پر موقوف تھی،جب کہیں سے کھانا نہ آئے تو ان کے یہاں دعوت رہتی تھی۔
مدینہ شہر درود و سلام ہے ،یہاں کا خاص وظیفہ و ہ ہے ،جواللہ اوربندوں کے درمیان مشترک ہے،یعنی درودوسلام ،چنانچہ ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰہَ وَمَلَآئِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلٰی النَّبِیِّْ یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔
بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر رحمت بھیجتے ہیں ،اے ایمان والوں تم بھی ان کے لئے رحمت اور سلام کی دعا کرو۔
مدینہ پہونچنے کے بعد والد صاحب کی اولین ہدایت یہی تھی کہ یہاں درود و سلام