کی،جب قافلہ قریب آیا تو حافظ صاحب نے قافلہ میں سے ایک شخص کو اشارہ سے بلایا،پورا قافلہ ہماری طرف متوجہ ہو کر ہمارے قریب آگیا،مشارالیہ کے ہاتھ میں عمدہ قسم کی کھجوروں کی ایک تھیلی تھی،سلام کے بعد اس نے سب سے پہلے کھجور پیش کی،پھر حافظ صاحب نے ان کے وطن کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ ازبکستان کے ہیں ،جانے سے پہلے پورے قافلہ والوں نے اپنے پیش رو کے اتباع میں ہم لوگوں کو کھجوریں دیں اور سلام کر کے آگے بڑھ گئے،پھر کیا تھا جو بھی گزرتا ہمیں کھجوریں دیتا ہوا آگے بڑھ جاتا،ہم لوگ پریشان الٰہی یہ ماجرا کیاہے؟کیا ان لوگوں نے راستہ کے کنارے تختہ پر بیٹھنے کی وجہ سے ہم لوگوں کو فقیر سمجھ لیا ہے،یا محض اگلوں کی تقلید میں یہ ایسا کر رہے ہیں ،والد صاحب نے کہا جو بھی سمجھ کر دے رہے ہوں ،مگر خلوص کے ساتھ دے رہے ہیں ،انکار مت کرو لے لو،کوئی حرج نہیں ،تھوڑی دیر میں ہمارے پاس کھجوروں کا اچھا خاصا ڈھیر جمع ہو گیا،ایسا بھی نہیں تھا کہ ملی ہوئی کھجوریں ہم لوگ سامنے رکھ کر بیٹھے ہو ئے تھے،بلکہ اس کو رومال میں لپیٹ کر ایک کنارے رکھتے جاتے تھے جو دوسروں کی نگا ہوں سے پوشیدہ تھاکہ مبادا کوئی دیکھ کر یہ گمان نہ کرے کہ ہم لوگ اسی کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں ،اس احتیاط کے باوجود لوگ آتے اور کھجوریں دیکر آگے بڑھ جا تے،وہاں بیٹھے رہنے کی مجبوری یہ تھی کہ ابھی تک بھائی صاحب اور ڈاکٹر صاحب چائے لے کر واپس نہیں آئے تھے۔
مدینہ منورہ کے انوار و برکات کا کیا کہنا ،یہ شہر تو مامن رسول اور مہبط جبریل ہے، اشاعت اسلام میں اس شہر اور شہر کے لوگوں کا بنیادی کردار ہے،کون مسلمان ہوگا جس کے دل میں اس شہر کی محبت نہیں ہوگی،اس شہر کے انوار و برکات سے فیضیاب ہونا نہیں چاہتا ہوگا،یہ شہر دنیا کی سب سے عظیم ہستی کو اپنی آغوش میں چھپائے ہوئے ہے،یہ شہر،شہر ادب ہے،یہ شہر،شہر علم ہے،اور سب سے بڑھ کر یہ شہر ،شہر رسول ہے،یہاں آیا ہوا ہر کہ و مہ ضیف رسول ہے،یہاں پہونچنے کے بعد ہر شخص ضیافت رسول کا واضح طور سے مشاہدہ کرتا ہے،ہم لوگوں نے بھی مشاہدہ کیا اور خوب کیا ،مضیف جب دنیا کی سب سے بڑی ہستی ہو تو اس کی