ہلکی بھی ظلمت برداشت نہ کر سکے،کفر کے مقابلہ میں اس کلمہ کے لئے اپنا قیمتی سے قیمتی اثاثہ قربان کر دیا،یہاں تک کہ اپنی ناک ، اپنا کان تک دے دیا،سینہ چروا کر اپنا دل اور اپنا کلیجہ تک نکلوانا پسند کیا ،اپنا مثلہ کروالیا،لیکن اس کلمہ کی حرمت اور اس کے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کو حرز جان بنا کر استوار رکھااور اس کو پائمال ہونے سے ہر قیمت پر بچایا۔
میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کیا بعید جب فرشتے میرا سلام لے کر ان کی بارگاہ میں پہونچے ہوں گے تو انھوں نے تعجب سے سوال کیا ہو کہ یہ کون ہے؟ جس کا ٹوٹا پھوٹا سلام آپ لوگ لے کر آئے ہیں ،کیا یہ بھی مسلمان ہے؟کیا اسلام کے ماننے والے ایسے بھی ہو سکتے ہیں ؟اوپر سے ملمع کا ری،اندر غلاظت،کیا ایک مسلمان کے ظاہر و باطن میں اتنا فرق ہو سکتا ہے؟اوپر سے بظاہر دین دار ،اور اندر دین نام کی کوئی شئے نہیں ،صرف دنیا ہی دنیا ہے،پھر آخری فیصلہ سنائے ہوں کہ ہمارے زمانے میں ایسے منافق ہوا کرتے تھے،کیا اس زمانہ میں منافقین کی صفات مسلمانوں میں بھی در آئی ہیں ؟پھر ایک سرد آہ کھینچی ہواور مسلمانوں کے نفاق،ذلت و نکبت کو بارگاہ عالی میں بصد الحاح و زاری پیش کیا ہو اور اس سے نجات کی دعا مانگی ہو۔
سلام و فاتحہ کے بعد والد صاحب اور حافظ صاحب گاڑی کی طرف چلے گئے،ڈاکٹر محمد اسلم صاحب اور میں ایک پہاڑی نما چٹان پر چڑھ گئے،تھوڑی دیر میدان جنگ کے متعلق آپس میں گفتگو کر تے رہے اور تخمینہ لگا تے رہے کہ اہل اسلام میدان کے کس طرف رہے ہوں گے اور اہل کفر کس سمت میں ،اور وہ پہاڑ کون سا ہوگا جس کی پشت سے کفار مکہ ہزیمت کے بعد حملہ آور ہو ئے تھے،اور پھر چٹان سے اتر کر والد صاحب کے پاس پہونچے،والد صاحب اور حافظ صاحب راستہ سے ہٹ کر ایک تختہ پر بیٹھے ہو ئے تھے،راشد بھائی اور ڈاکٹر صاحب چائے کی تلاش میں گئے ہوئے تھے،ابھی انتظار کے چند ہی لمحات گزرے تھے کہ سامنے سے گورے ،چٹے،سفید فام لوگوں کا ایک مختصر سا قافلہ آتا ہوا نظر آیا،بات ہونے لگی کہ یہ لوگ کہاں کے ہو سکتے ہیں ؟سب نے اندازہ سے ان کے وطن کی نشان دہی کی کوشش