ہلکی،ہم لوگ جس گاڑی پر بیٹھے ہو ئے تھے اس کو حافظ صاحب ڈرائیو کر رہے تھے،انھوں نے کہا کہ دیکھئے میں نے گیئر چھڑا دیا اور اکسلیٹر سے پائوں اٹھا لیاآپ لوگ رفتار کا کانٹا دیکھتے رہئے تھوڑی دیر میں اسی پر پہونچ جائے گا،اور واقعی ہوا یہی ،تھوڑی دیر میں گاڑی بغیر گیئر اور بغیر اکسلیٹر کے مدینہ کی سمت میں اسی کی رفتار میں رواں دواں ہو گئی،پھر انھوں نے گاڑی کا رخ مدینہ کی مخالف سمت میں پھیر دیااور گاڑی کم و بیش اسی رفتار میں عقب میں جانے لگی،تقریباً چار پانچ کلو میٹر تک گاڑی اسی طرح بغیر انجن کی طاقت کے چلتی رہی،راستہ میں جا بجا ڈھلان اور چڑھائی بھی آتی رہی لیکن اس کی وجہ سے گاڑی کی رفتار پر کوئی اثر نہیں پڑا،یہ تعجب خیز منظر دیکھ کر اس بدیع السموات و الارض کی قدرت کاملہ پر یقین پختہ تر ہوگیا۔
مدینہ میں حافظ صاحب کی موجودگی ہم لوگوں کے لئے آرام کے مترادف تھی، بیشتر زیارت گاہوں کی دیدار کا شرف انھیں کی معیت میں حاصل ہوا ،انھیں کے ساتھ ایک دن جبل احد کی زیارت ،سید الشہداء،اور شہیدان احد رضی اللہ عنہم کی مزارات مقدسہ پر حاضری کی غرض سے گئے،جبل احد کے دامن میں ان پاک نفوس کی قبریں ہیں ،جس کو حکومت نے قد آدم دیوار سے ہر چہار سمت سے گھیر دیا ہے،دیوار سے لگ کر کھڑے ہونے پر مزارات مقدسہ کی زیارت ممکن ہو تی ہے،عم محترم سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر بالکل وسط میں واقع ہو ئی ہے،آپ کی قبر کے علاوہ کسی بھی شہید کی قبر کی نشان دہی حتمی طور سے نہیں کی جاسکتی۔
وہیں دیوار سے لگ کر تمام شہیدان احد اور خصوصاً حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی بارگاہ ذی شان میں سلام و فاتحہ کا نذرانہ،عقیدت مندانہ پیش کرتے ہوئے کچھ روئے ،کچھ شرمائے،روئے اپنی بد بختی پر،اور شرمائے اپنی مسلمانی پر،ایک وہ تھے کہ جب کلمہ لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللہ کا اقرار کر لیا تو اس پر اخیر دم تک قائم رہے اور اس کے انتہائی تقاضوں کو پورا کیا،اپنی جان ،مال ،عزت ،آبرو،آل اولاد،خاندان ،قبیلہ سب سے دستبردار ہو گئے لیکن اس کلمہ پر آنچ آنا ان کو گوارا نہیں ہوا،آنچ تو دور کی بات ہے اس پر کفر کی ہلکی سے