کہ آپ ہمارے گروپ میں چلئے جو یہاں سے تھوڑی دور پر بیٹھا ہوا ہے،آپ ماشاء اللہ حافظ قرآن ہیں وہ لوگ آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گے،اور وہیں ہمارے ساتھ ناشتہ بھی کیجئے،میں نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میں اس وقت قیام گاہ پر جا رہا ہوں جہاں والد صاحب ناشتہ پر میرا انتظار کر رہے ہوں گے،پھر کسی دوسرے دن موقع ملے گا تو آپ کے ساتھ چلوں گا،یہ کہہ کر رخصت ہونے کی غرض سے میں نے ان کی طرف مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا تو انھوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے کہا کہ میں آپ سے قرآن سننا چاہتا ہوں آپ اپنی تلاوت کا وقت اور جگہ بتلا دیجئے میں قرآن سننے کے لئے آجایا کروں گا،میں نے فوراً کہا بہت خوشی کی بات ہے میں فجر کے بعد روزانہ آپ کو یہیں ملوں گا،لطف یہ کہ ان سے ساری گفتگو ان کے اِنتِ والی عربی میں ہوتی رہی،دو تین مرتبہ میں نے صحیح عربی بولنے کی کوشش کی تو وہ سمجھنے سے قاصر رہے۔
ایک دن فجر کی نماز کے بعد قیام گاہ پر آیا تو معلوم ہوا کہ حافظ محمدمسعود صاحب گاڑی لے کر آئے ہیں ان کے ساتھ وادی ٔجن دیکھنے کے لئے جانا ہے،والد صاحب ،راشد بھائی،ڈاکٹر محمد اسلم صاحب اور میں گاڑی میں سوار ہوکر وادیٔ جن کے لئے روانہ ہوئے،مدینہ منورہ کی موجودہ آبادی سے کافی ہٹ کر وادیٔ جن واقع ہے،راستہ میں ایک مزرع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے والد صاحب نے بتلایا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں رسول اللہا کی بکریاں چرانے کے لئے لائی جاتی تھیں ،یہ مزرع مدینہ منورہ سے کم و بیش پانچ سات کلو میٹر کی مسا فت پر ہے،مزرع کی دوری اور اس زمانے کے حالات کو چشم تصور سے دیکھتے ہوئے، حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے ،ہم لوگ وادیٔ جن پہونچے،حافظ محمد مسعود صاحب نے بتلایا کہ اس جگہ کا نام اصلاًتو وادی بیضاء ہے لیکن اس کی عجیب و غریب خصوصیت کی وجہ سے لوگ اسے وادی ٔجن کہنے لگے ہیں ۔
وادی ٔجن کی عجیب بات یہ ہے کہ کوئی مدور غیر جاندار شئے سطح زمین پر رکھ دی جائے تو وہ خود بخود بغیر حرکت دئے مدینہ کی سمت متحرک ہو جا تی ہے،خواہ وہ شئے وزنی ہو یا