کیا،میں نے دیکھا کہ سورہ بقرہ کا آخری صفحہ اور سورہ آل عمران کا ابتدائی صفحہ کھلا ہوا ہے،انھوں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا ،سورہ بقرہ فنیش اینڈ سورہ آل عمران اسٹارٹ،فنیش اور اسٹارٹ سن کر میں ان کا مدعا سمجھ گیا،اور بسم اللہ کرکے سورہ آل عمران ان کے سامنے قدرے بلند آواز سے پڑھنا شروع کیا ،جب میں خاموش ہوتا تو وہ میرے پڑھے ہوئے کا اعادہ کرتے ،کبھی میں تیزی سے پوری آیت پڑھ دیتا تو وہ اشارہ سے آہستہ پڑھنے کی ہدایت کرتے،پھر یہ سلسلہ چل پڑا ،آپس میں اشارہ سے وقت اور جگہ کا تعین کر لیا گیا،فون نمبر کا بھی تبادلہ ہوگیا،اگر کسی وجہ سے مجھے دیر ہوجا تی تو ان کا فون آجاتا،مدینہ منورہ کے قیام کے دوران پوری پابندی سے ہم دونوں قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے،میں پڑھتاجاتا اور وہ اعادہ کرتے رہتے،یہاں تک کہ ان کے قیام کی مدت تمام ہونے تک ہم دونوں نے سورہ توبہ کی تلاوت مکمل کر لی،چونکہ مدینہ منورہ میں ان کی آمد ہم لوگوں سے قبل ہوئی تھی اسلئے ان کی رخصت بھی ہم لوگوں سے دو دن قبل ہی ہوگئی،آخری نشست میں انھوں نے مکۃ المکرمہ میں ملنے کی خواہش ظاہر کی اور ہنوز اس سلسلہ کو باقی رکھنے کے لئے کہا ،اشارہ کے ذریعہ ملنے کی یہ صورت طے کی کہ وہ تین دن کے بعد مجھ کو فون کریں گے اور ملنے کی جگہ بتلائیں گے،لیکن مکۃ المکرمہ جانے کے بعد نہ ان کا فون آیا اور نہ ہی میں نے رابطہ کی کوشش کی ،اور نہ پھر ان سے دوبارہ ملاقات ہو سکی۔
مدینہ منورہ میں معمول تھا کہ صبح فجر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر تلاوت کرتا تھا،ایک دن بیٹھا بلند آواز سے تلاوت کر رہا تھا اور مجھ سے تھوڑے فاصلے پر ایک صاحب بیٹھے ہوئے تھے،کچھ دیر بعد وہ میرے پاس آکر بیٹھ گئے اور جب تک میں تلاوت میں مشغول رہا وہ بیٹھے رہے،جب تلاوت سے فارغ ہوا تو انھوں نے سلام کر کے مصافحہ کے لئے ہاتھ آگے بڑھایا،اور عربی میں اپنا تعارف کرایا،اسمی آدم عبدالقادر ،انا من نائیجیریا،جواب میں ،میں نے بھی اپنا نام بتلایا،پھر انھوں نے سوال کیا ،اِنتِ حافظ القرآن،میں نے کہا نعم،پھر وہ بہت دیر تک الحمد للہ ،بارک اللہ کہتے رہے،اس کے بعد انھوں نے ناشتہ کی دعوت دی اور کہا