سمندر اپنے دل میں رکھتے ہیں ،افضل البشر،سید الانبیاء،حاصل کائنات ہونے کے باوجود ایک بندہ بے دام کو جو ان کا امتی ہونے کا دعوی تو کرتا ہے لیکن امت کی روشن جبیں پر ایک کلنک کے ٹیکے سے زیادہ اس کی حیثیت نہیں ہے،اپنے دربار پاک میں حاضر ہونے کی سعادت مرحمت فرماتے ہیں ،اور مزید عنایت یہ کہ درود و سلام پڑھنے کی اور بلدہ طیبہ میں قیام کی مدت میں بار بار اپنے روضہ کی پاک فضا میں حاضری کی سعادت عطا فرماتے ہیں ۔
والد صاحب کی راہنمائی میں ڈرتے ،کانپتے،تھر تھراتے،گڑ گڑاتے،آنسووں کو ضبط کرتے،توبہ استغفار کا ورد کرتے جالی کے اس روزن کے سامنے کھڑے ہوئے جس پر اس مقدس ہستی کا نام نامی لکھا ہوا تھا،شرم سے آنکھیں جھکی جارہی تھیں ،بے ادبی کے خوف سے پائوں تھر تھرا رہے تھے،والد صاحب آگے اور میں ان کی پشت کی پناہ لئے پیچھے کھڑا تھا،والد صاحب کے وجود کو ڈھال بنا کر شان اقدس میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیااورروز محشر شفاعت کی درخواست کی،اس کے بعد افضل البشر بعد الانبیاء حضرت ابو بکر صدیق ص کی قبر کے سامنے پہونچے اور اس یار غار کی شان با برکت میں سلام عقیدت پیش کیا،پھر اس کے بعد خلیفۃ الرسول الثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دربار عالی مقام میں گلدستہ سلام لیکر حاضر ہوئے،اور پھر چلتے ہوئے باب السلام سے مسجد نبوی کے صحن میں پہونچے،ہوش و حواس کچھ درست ہوئے تو خیال آیا کہ بہت سے لوگوں نے سلام شوق و عقیدت پیش کرنے کے لئے کہا تھا،ان کے سلام تو وفور جذبات میں پیش ہونے سے رہ گئے،پھر سوچا کہ دوسری حاضری میں قرض کی ادائیگی کرلی جائے گی۔
ایک دن مسجد نبوی میں ظہر کی نماز کے بعد قدرے بلند آواز سے تلاوت کررہا تھا،میرے بغل میں تھوڑی دور پر ایک سوڈانی حاجی بھی تلاوت میں مشغول تھے،میری تلاوت کی آواز ان کے کان میں پڑی تو وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور کچھ کہا ،میں نے تلاوت موقوف کرکے ان کی بات سمجھنے کی کوشش کی لیکن زبان یار کے ترکی ہونے کی وجہ سے میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا،انھوں نے میری پریشانی بھانپ لی اور قرآن کی طرف اشارہ