ہوگئے،زبان گنگ ہوگئی،کیا جواب دوں کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا،کیا میرے جیسا گنہگار بھی اس لائق ہے کہ اس سے پوچھا جائے کہ اس بارگاہ پاک میں جس کے حاضر باش انبیاء کے بعد سب سے مقدس لوگ رہے ہوں ،کب حاضری دوگے؟تھوڑی دیر بعد جب جذبات قابو میں آئے تو میں نے آہستگی سے عرض کیا کہ جب آپ حاضری کے لئے جائیں گے تو میں بھی ساتھ جائوں گا،اتنے میں حاجی محمد نعمان صاحب آگئے انھوں نے مژدہ سنایا کہ میں گنبد خضراء کی زیارت کر کے آرہا ہوں ،والد صاحب نے کہا کہ تم بھی جاکر دور سے زیارت کرلو،لیکن خوف و ہراس کا ایسا عالم طاری تھا اور اپنی سیہ کاریوں کا اس قدر استحضار تھا کہ میں اس کی بھی ہمت نہیں کرسکا ،عرض کیا کہ آپ کے ساتھ ہی چلوں گا،والد صاحب نے کہا کہ میں عشاء کی نماز کے بعد جائوں گا۔
عصر اور مغرب مسجد نبوی میں ادا کی گئی،عشاء کی نماز کے لئے کھڑا ہوا تو عجیب کیفیت طاری تھی،دل و دماغ قابو سے باہر تھے ہوش و خرد مفلوج سے لگ رہے تھے،کچھ یاد نہیں تھاکہ میں کیا کر رہاہوں اور یہ کیا ہو رہا ہے؟بس اتنا یاد تھا کہ ابھی نماز کے بعد ایک گنہگار،سیہ کار، معصیت کا ٹھیکراجو بظاہر دین داری کا غازہ چہرے پر ملے ہو ئے ہے دنیا کے سب سے پاک سیرت ،پاک بازاورراست گو انسان کے دربار میں حاضر ہوگا،اس بندہ گنہگار کا کیا بنے گا؟کس منہ سے محبوب کبریااکے روضہ اطہر کا سامنا کرے گا؟اسی ادھیڑ بن میں نماز مکمل ہو گئی،سنتوں سے فارغ ہونے کے بعد والد صاحب کی راہنمائی میں قدم روضہ اطہر کی جانب بڑھے،آنکھیں ضبط کے باوجود بھیگ گئیں ،جیسے جیسے روضہ مبارک سے قریب ہوتا گیاضبط کا بندھن ٹوٹتا گیا،قدم منوں بھاری محسوس ہونے لگے،کیا واقعی میں آج دربار حبیب کی باریابی سے مشرف ہو جائوں گا؟کہیں یہ خواب و سراب تو نہیں ؟میں اپنے وجود کو روضہ مبارک کی طرف بڑھتے ہوئے محسوس توکررہا تھالیکن میرے لئے یہ یقین کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ میں مسجد نبوی کی پاک و مقدس فضا میں سانس لے رہا ہوں ،فداہ ابی وامی اس آقا کی شان کریمی جس کی رحمت و رافت کا کوئی ٹھکانہ نہیں ،جو لطف و کرم ،عفو و رحم کا اتھاہ