اور ان کے لئے دل سے دعا نکلی، مزدلفہ میں چونکہ رات بھر رہنا ہوتا ہے اس لئے یہاں خیمہ کا نظم نہیں ہوتا ، جہاں زمین پر جگہ ملے سوجانا ہوتا ہے، منیٰ کا گدا یہاں بہت کام آیا، آرام سے اس پر سوئے ،صبح اٹھ کر استنجا وضو سے فارغ ہوکر تلاوت کی، جب صبح صادق ہوئی تو نماز پڑھ کر وقوف کیا ، وقوف کا وقت صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعدہے ، سورج نکلنے کے بعد یہاں سے منیٰ کے لئے روانہ ہوئے ، چونکہ منیٰ سے بالکل متصل ہی قیام تھا اس لئے گھنٹہ بھر میں اپنے خیمے میں پہونچ گئے ، ایک دن کی مسلسل بھاگ دوڑ نے کافی تھکادیاتھا ، اس لئے آتے ہی سوگئے ، پروگرام یہ بنا کہ ظہر کے بعد رمی کیلئے جائیں گے ، ظہر بعد رمی کے لئے نکلے اور نہایت آرام سے مسنون طریقے سے رمی کی گئی، اور ہر رمی کے بعد دعا کی گئی، حضرت مولانا کے تجربات کی وجہ سے ہرہرقدم پر سہولت رہی، مولاناکے اس جملے کی معنویت خوب اچھی طرح ہرموقع پر سمجھ میں آتی رہی کہ ’’ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ کسی معتبر اورصاحب دل عالم کی معیت حج میں تلاش کرلیں ، اور اس کے پاؤں کی خاک بن کر رہیں ، انشاء اﷲ حج کا لطف آجائے گا۔ ‘‘ واقعی حضرت مولانا کی معیت کی وجہ سے حج کا لطف آگیا۔ رمی کے بعد مرحلہ قربانی اورحلق(سرمنڈانے)کا تھا ، قربانی کی ذمہ داری تو مفتی عبدالرحمن صاحب نے لے رکھی تھی ، جیسے ہی انھوں نے قربانی ہوجانے کی خبر دی ہم لوگوں نے سرمنڈالیا ، مولوی عامر نے سب کا سر مونڈا، اور نہادھوکر عام لباس میں آگئے ، اب حج کا ایک رکن طواف زیارت باقی رہ گیا، حضرت مولانا نے فرمایا کہ دوسرے روز رمی کرکے سیدھے مکہ چلیں گے اور طواف زیارت کرکے واپس آئیں گے، چنانچہ عصر کی نماز پڑھ کر رمی اور مکہ روانہ ہوگئے ، حرم میں پہونچے تو مغرب کی اقامت ہورہی تھی ، حرم بالکل خالی تھا ، اکثر لوگوں نے پہلے دن ہی طواف زیارت کرلیا اس وجہ سے پہلے دن بہت زیادہ بھیڑ تھی ، نماز سے فارغ ہوکر طواف شروع کیا گیا ، مولانا نے ہم لوگوں سے کہا کہ یہ طواف فرض ہے اس کی حیثیت عام طواف کی نہیں ہے اس کے تمام آداب وشرائط کو حددرجہ ملحوظ رکھو ،اور اﷲ کی عظمت وکبریائی کا مکمل استحضار رکھتے ہوئے طواف کرو، اس بروقت نصیحت کی وجہ سے پورے طواف میں بہت