خلاصہ ہے ، اس لئے ایک لمحہ بھی اس قیمتی وقت کا غفلت میں نہ گزرے ، زوال کا وقت ہوا تو خیمے میں ہی ظہر کی نماز ادا کی گئی ، اور مولانا نے فرمایا کہ وقوف کے معنی کھڑے ہونے کے ہیں اس لئے جس قدر قوت وطاقت ہو کھڑے ہوکر دعائیں ، ذکر ،مناجات یاجو کچھ بھی پڑھنا ہے پڑھو، چنانچہ ہم لوگ کھڑے ہوکر ذکر ودعا میں لگے رہے، کچھ دیر کے بعد حضرت مولانانے فرمایا کہ چلو خیمے سے باہر نکل کر کہیں کنارے دعا کریں گے،چنانچہ ہم لوگ ان کے ہمراہ خیمے سے کچھ دور نکل گئے ، پپو بھائی بھی آگئے ،کچھ اور متعلقین بھی، مولانا نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ، اس قدر ٹوٹ کر دعا کرائی کہ پورامجمع بلبلا اٹھا، ہر ایک کی زبان سے آہ وبکا نکل رہی تھی ، اوروں کے بارے میں تو میں کیا کہہ سکتا ہوں لیکن میرا حال یہ ہورہا تھا جیسے دل پھٹ جائے گا ، اپنی گنہ گاری پر اس قدر رونا آرہا تھاکہ طبیعت کسی طرح قابو میں نہیں آرہی تھی ،گھنٹے بھر یہی کیفیت رہی صاف محسوس ہورہا تھا کہ اﷲ تعالیٰ اس فریاد کو ہمارے قریب ہی سن رہے ہیں اورجو کچھ مانگا جارہا ہے اسے اپنے شایان شان عطا کررہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میرے بندو !میں نے تمہارا حج بھی قبول کیا اور تمہاری دعائیں بھی!
دعاکے بعد طبیعت بالکل صاف ہوگئی اور دل بہت مسرور تھاکہ اﷲ نے ہماری دعا سن لی اور ہمارا حج قبول کرلیا ، اﷲ تعالیٰ ہمارے گمان کے مطابق معاملہ فرمائے۔ آمین
عصر کے وقت خیمے میں آئے اور نماز ادا کی، اور جوکچھ لمحات اس بابرکت ساعت سے باقی رہ گئے تھے اسے ذکرودعا سے معمور کرنے لگے ، آج کے دن مغرب کی نماز عشا کے وقت میں مزدلفہ میں پڑھنی ہے اس لئے غروب کے وقت خیمے سے نکل کر بس پر آگئے ، راستے میں ایک صاحب نے کھانے پینے کی ڈھیر ساری چیزیں دیدیں ، جو راستے میں کام آئیں ، مغرب کے بعد بس روانہ ہوئی اور دس بجے تک ہم لوگ مزدلفہ میں تھے ، بس والے نے ہمیں مزدلفہ کی آخری حد پر اتارا جو منیٰ سے بالکل متصل تھی ، مغرب اور عشا کی نماز پڑھی گئی ، دوپہر میں کم کھانے کی وجہ سے بہت تیز بھوک لگی تھی، جیسے ہی نماز سے فارغ ہوئے ایک صاحب پکارتے ہوئے آئے کہ لیجئے بالکل گرم گرم بریانی ہے کھالیجئے، خوب اچھی طرح سے کھائی گئی