طرح گزربسر کرنی ہی تھی، منیٰ کا قیام چونکہ بہت مختصر ہوتا ہے اس لئے وہاں کھانے پینے کا کوئی معقول نظم نہیں ہوتا ہے،اسی خیال سے بھنے ہوئے چنے ،خستے اور ستو وغیرہ رکھ لئے گئے تھے کہ یہ وہاں کام آئیں گے لیکن تقدیر تدبیر پر غالب آئی اور مکہ سے نکلتے وقت وہ ہینڈبیگ کمرہ ہی پرچھوٹ گیا جس میں یہ چیزیں تھیں ، اب کیا ہوتا، کھانے کی جوچند دوکانیں تھیں ان پر اتنی لمبی لائن لگتی تھی کہ وہاں سے کھانالینااپنے بس سے باہر تھا ، خیر حافظ نوشاد صاحب ممبر حج کمیٹی کی عنایت سے یہ مشکل حل ہوئی ، انھوں نے کہا کہ انڈین حج مشن میں مہمانوں کیلئے کھانا بنتا ہے جو دس ریال کا ہوتا ہے، یہ عام لوگوں کو نہیں دیا جاتا، میرا نام بتادیجئے گا تو مل جائے گا چنانچہ اس طرح بہت سہولت سے کام بن گیا ، اس پورے سفرحج میں اﷲ تعالیٰ کا خاص فضل وکرم ا ورعنایت و مہربانی رہی کہ کہیں کوئی دقت نہیں پیش آئی۔
منیٰ میں ۸؍ ذی الحجہ کی ظہر،عصر،مغرب ،عشا اور ۹؍کی فجر پڑھنا مسنون ہے ، لیکن ہم لوگوں نے ۸؍ کی فجر سے لیکرعشا کی نمازیں منیٰ میں پڑھیں اور رات بارہ بجے کے قریب عرفات کیلئے بس آگئی تو روانہ ہوگئے ، جی چاہ رہاتھا کہ صبح فجر کے بعد جایاجائے لیکن اس میں دشواری بہت تھی ، ایک تو اپنی سواری سے جانا پھر عرفات پہونچ کر خیموں کے جنگل میں اپنا خیمہ تلاش کرنا ایک دشوارگزار امر تھا ، اس لئے رات ہی میں معلم کی بس سے جانے کو ترجیح دی گئی،منیٰ میں حجاج کو بطور ملکیت ایک کمبل، گدا اورتکیہ دیا گیا تھا جس کی قیمت زرمبادلہ کی رقم سے وضع کرلی گئی تھی ، اور صراحت کردی گئی تھی یہ حجاج کی ملکیت ہے، میں نے عرفات جاتے ہوئے وہ پتلا ساگدا اور مختصرساتکیہ ساتھ رکھ لیا کہ عرفات اور مزدلفہ میں کام آئے گا ، چنانچہ یہ دونوں جگہوں پربہت کام آیا، رات ہی میں ہم لوگ عرفات میں اپنے خیمے میں پہونچادئے گئے۔فجر کی نماز کے بعد سوگئے اور دس بجے کے قریب اٹھے اور جاکرغسل کیا ، عرفات میں غسل اور وضو کابہت عمدہ نظم ہے، اس کے بعدمعلم کی طرف سے کھاناملا، مولانانے فرمایا کہ تم لوگ کھاناذراکم کھانا تاکہ وقوف میں نشاط اور چستی رہے، اور ہمیں وقوف کی اہمیت بتلائی کہ یہ وقوف حج کا رکن اعظم ہے ، اور یہی وقت پورے سفر کا