کتابیں اوررسائل اور کیسٹیں وغیرہ تھیں وہاں کبھی کبھی جانا ہوتاتھا، اس کا مالک ایک عرب نوجوان تھا بہت ہی خلیق، ایک دوبار کے بعد بہت مانوس ہوگیا ،ایک روز دعوت بھی کی، ایک روز شہد کی ایک بوتل ہدیہ کی، ہندوستان کے احوال پوچھتارہتا تھا ، مجھ سے پوچھا کہ آپ کی تنخواہ کیا ہے ؟ میں نے بتایا تو اسے بہت حیرت ہوئی، کہنے لگا کہ آپ یہاں آجائیے ہمارے پاس ہم ایک ہزار ریال سے زیادہ تنخواہ دیں گے، میں نے کہا کہ یہاں صرف تنخواہ نہیں خدمت دین بھی مقصود ہے تو وہ اس جواب پربہت خوش ہوااور دعائیں دیں ۔
حج کا وقت بالکل قریب آگیا ، حجاج کا اس قدر ہجوم ہوگیا کہ حرم میں داخل ہونا مشکل ہوگیاتھا ، میں حرم آتے جاتے دیکھتا تھا کہ جگہ جگہ یہ عبارت لکھی رہتی :لاحج بلاتصریح،کہ بغیر تصریح کے حج نہیں ہے۔ میں نے ایک روز حضرت مولانا سے دریافت کیا کہ اس عبارت کا کیا مطلب ہے کہ لاحج بلاتصریح، مولانا مسکرائے اورمزاح کے طور پر فرمایا کہ یہ ایک نئی آیت اتری ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ حکومت کے اجازت نامے کے بغیر حج نہیں ہوگا ، تصریح اجازت نامے کو کہتے ہیں جن کو حکومت کی طرف سے اجازت ہوگی انہیں کا حج درست ہوگا جو لوگ بغیر اجازت کے چوری چھپے آکرحج کرتے ہیں ان کا حج درست نہ ہوگا۔
معلم کی طرف سے ایک روز اعلان آویزاں کیا گیا کہ ۷؍ذی الحجہ کو عشا بعد منیٰ روانگی ہوگی تمام حجاج تیار رہیں ، دوپہر میں احرام کاکپڑا پہن کر حرم گیا کہ یہیں دورکعت پڑھ کرحج کے احرام کی نیت کرلیں گے اور طواف کرکے سعی بھی کرلیں گے تاکہ حج کے بعد والی سعی ساقط ہوجائے ، لیکن مولانا نے کہا کہ رہنے دو حج کے بعد طواف زیارت کے ساتھ ہی سعی بھی کی جائے گی ، تو اس کو ترک کردیا۔رات گیارہ کے بعد بس آئی ، اور منیٰ روانہ ہوئے بارہ کے بعد اپنے خیمے میں پہونچے۔ ۱۹۹۷ء میں منیٰ کی آتشزدگی کے بعد تمام خیمے فائر پروف بنادئے گئے اور اس میں اے سی کا نظم ہے، لیکن ہر شخص کوجگہ صرف اتنی ہی دی گئی کہ کروٹ بدلنے کیلئے بھی اغل بغل والوں سے اجازت لینا پڑتا تھا،خیر چند رات کا مسئلہ تھا کسی