وبلاغت سے لبریز بہت شاندار خطبہ دیا، تمام مسلمانان عالم کی صلاح وفلاح کیلئے دعا کی، تمام دشمنان اسلام کا نام لے لے کر ان کی تباہی وبربادی کیلئے بددعا کی، لیکن اگر ان میں کسی کانام نہیں لیا تووہ امریکہ اور اسرائیل تھے، نماز کے بعدحضرت مفتی ابوالقاسم صاحب سے ملاقات ہوئی تو اس خطبہ کا ذکر نکل آیا ، حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ کس قدر فصیح وبلیغ خطبہ تھا ، میں نے کہاکہ پورے خطبے میں تمام لوگوں کا نام لیا گیا لیکن امریکہ اور اسرائیل کا نام کہیں نہیں آیا ، فرمانے لگے تم ٹھیک کہتے ہو میں نے بھی اس پر غور کیاہے، معلوم ہوا کہ حرم کا خطیب ہو یا پورے مملکت سعودیہ کا کوئی بھی خطیب ہو حکومت کی مرضی کے بغیر ایک لفظ نہیں کہ سکتا ، سارے خطبات سنسر ہوتے ہیں اس کے بعد ہی کوئی کچھ کہ سکتا ہے۔ جمعہ کے بعد میں منیر بھائی کے ساتھ حرم سے نکلا، اس قدر رَش تھا کہ قدم اٹھانا دشوار تھا، ہم لوگ مسفلہ سے گزر کر شارع ابراہیم خلیل پر آجاتے تھے اور اپنے کمرے پر پہونچ جاتے تھے، آج تو مسفلہ کے راستے پر ایسا ہجوم تھا کہ تل دھرنے کی بھی جگہ نہ تھی ، ایک وقت میں مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ ہجوم میں دبنے کی وجہ سے دم گھٹ جائے گا، میں نے منیر بھائی سے کہا کہ کسی طرح یہاں سے نکل کر ایسی جگہ پہونچئے جہاں کچھ دم لے سکیں ، تو کسی طرح رینگتے کھسکتے سامنے سپر مارکیٹ تک پہونچے اور اس میں گھس گئے ، اے اسی کی ہوا لگی تب جاکر اوسان بحال ہوئے ،اسی میں ایک دوکان سے قلفی لے کرکھائی گئی اس کے بعدتو بالکل حالات معمول پرآگئے، پھر مارکیٹ کے اندرہی اندر چل کردوسری طرف شارع ابراہیم خلیل پر آگئے بعد میں معلوم ہوا کہ آج کئی حجاج ہجوم میں دب کر جاں بحق ہوگئے ۔
اس سفر میں حرم کی توسیع کی وجہ سے باب العمرہ کاپورا علاقہ ختم کردیا گیا ، ساری عمارتیں توڑکر میدان بنادیاگیا، سارے کتب خانے اسی علاقے میں تھے، کتابوں کی تلاش ہوئی تو سارے کتب خانے ندارد، کوشش کے باوجود ان کا سراغ نہ لگ سکا کہ کدھر منتقل ہوئے، اور تلاش کے لئے خاطر خواہ فرصت بھی نہ تھی، اس لئے اس سفر میں کتابیں بہت کم لی گئیں اور وہ بھی صرف مدینہ منورہ سے، سپر مارکیٹ میں ایک چھوٹا سا کتب خانہ تھا میں کچھ