دیکھاگیا ، وہ مسجد بھی دیکھی گئی جو دوسری صدی ہجری میں منصور عباسی کے عہد میں بنی تھی اور کھدائی میں برآمد ہوئی ہے۔یہاں سے مزدلفہ ہوتے عرفات پہونچے،کہاں عرفہ کے دن کی بھیڑبھاڑاور کہاں یہ سناٹا! پورے موقف کا ایک چکر لگایا گیا ، جبل رحمت کے پاس پہونچے جہاں رسول اﷲ ا نے وقوف کیا تھا ، بہت سے لوگ وہاں اونٹوں پر بیٹھ کر تصویریں کھنچوارہے تھے تاکہ اپنے وطن واپس جاکر ثابت کرسکیں کہ وہ جبل رحمت پر بھی پہونچے تھے جبل رحمت کے پاس کافی چہل پہل تھی دوکانیں بھی تھیں جس سے اندازہ ہوا کہ یہاں ہمہ وقت لوگ آتے جاتے رہتے ہیں ، ہم لوگوں نے بھی ماکولات ومشروبات سے کام ودہن کی تواضع کی، یہاں سے مسجد نمرہ گئے اور پوری مسجد کا ایک سرسری جائزہ لیا، مسجد بالکل خالی تھی اور لائٹیں ، پنکھے اور اے سی سب چل رہے تھے ، مسجد کے اگلے حصے میں جو قبلے کی جانب ہے کچھ علامات بنی ہوئی تھیں دیکھا تو لکھا ہوا تھا کہ مسجد کا یہ حصہ عرفات سے باہر ہے ، یہاں وقوف نہ کیا جائے، یہ جان کر بہت حیرت ہوئی کہ مسجد نمرہ کا کچھ حصہ موقف سے باہرہے، یہ حصہ کئی صفوں کے بقدر تھا، یہ بات میرے تصور سے فزوں تر تھی کہ مسجد نمر ہ کا کچھ حصہ عرفات میں شامل نہیں ہے، علم وفضل کی جیسے فراوانی ہوتی ہے نہ جانے کتنے لوگ ایسے ہوتے ہوں گے جو اسی حصے میں وقوف کرکے پوری طرح مطمئن ہوتے ہوں گے کہ ہم نے عرفات میں وقوف کیا ہے؟وہاں سے ظہر کے کچھ پہلے واپسی ہوئی۔ بہر حال یہ مختصر ساسفربہت اچھا رہا ، تمام چیزوں کا اطمینان سے مشاہدہ ہوگیا۔
جیسے جیسے حج کا زمانہ قریب آتا گیا ہجوم میں اضافہ ہوتا گیا،اخیر کے چند دنوں میں تو نمازوں میں حرم کے اندرپہونچنا مشکل ہوگیا اگر سویرے جاکر اندر چلے گئے تو نماز کے بعد باہر نکلنا انتہائی دشوار، ایک جمعہ کو تو ہجوم کی وجہ سے بہت پریشانی ہوئی، دس بجے کے قریب حرم میں پہونچ گئے ،اور تہ خانے والے حصے میں چلے گئے ، منیر بھائی ساتھ تھے ، تلاوت وذکر میں مشغول رہے ، جمعہ کی اذان ہوئی اور بمشکل چاررکعت سنت پڑھ سکے کہ خطبہ شروع ہوگیا ، خطیب حرم کے نامور امام شیخ عبد الرحمن السدیس تھے ، انھوں نے فصاحت