دونوں ناجائز ہیں ،اس لئے ایسا کوئی عمل ہرگز نہیں کرنا چاہئے جس سے دوسروں کو تکلیف پہونچنے کا اندیشہ ہو۔
حضرت مولانا کے ایک اور محب مخلص اور حددرجہ فدائی سلیم احمد عرف پپوبھائی (میٹروفٹ ویر اعظم گڈہ)الحاج شمیم احمد ایڈوکیٹ اور ان کے صاحبزادے خالد شمیم صاحب یہ حضرات بھی وقتا فوقتا تشریف لاتے ،اور پپوبھائی کو اﷲ تعالیٰ نے دل دردمند عطاکیاہے وہ حضرت مولانا سے اس طرح کے واقعات پوچھتے رہتے جس سے اﷲ کی محبت دل میں جاگزیں ہو، اور کئی مرتبہ انھوں نے حضرت مولانا سے اجتماعی دعا کی درخواست کی ،اور مولانا نے اسے قبول کیا اور دعا کرائی ، ایک روزعشاکے بعد ہم سب لوگ حرم کے باہر صحن میں بیٹھے ہوئے تھے ،حضرت مفتی ابوالقاسم صاحب بھی تھے ، یہ حج سے کچھ پہلے کی بات ہے، مولانا نے حضرت مفتی صاحب سے کہا کہ اب حج کا وقت بالکل قریب ہے آپ دعا کرائیے کہ اﷲ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو حج مقبول نصیب فرمائے، چنانچہ حضرت مفتی صاحب نے جو سراپا تواضع وفنائیت ہیں فوراً دعا کیلئے ہاتھ اٹھادیئے اور بہت ہی الحاح وزاری کے ساتھ بالجہر دعا کرائی ، خود بھی روئے اور ہم لوگوں کو بھی رلایا، امید ہے کہ اس مقدس وبابرکت جگہ اور ان انفاس قدسیہ کی برکت سے ضرور اﷲ تعالیٰ نے اسے شرف قبولیت سے نوازاہوگا۔
اس سفر میں حضرت مولاناکے تین تین صاحبزادے ہمراہ تھے اس لئے حضرت بھی کافی منشرح رہتے تھے ،اور اس کا بہت اہتمام کرتے تھے کہ یہاں کا کوئی لمحہ ضائع نہ ہو، خود تو اپنے امراض وعوارض کی وجہ سے ہر نماز میں حرم کی حاضری نہیں ہوپاتی تھی لیکن ہم لوگوں کو تاکید کرتے تھے کہ حاضری میں کوئی سستی نہ ہو۔
ایک روز ایک صاحب اپنی گاڑی لے کر آئے کہ چلئے منیٰ،مزدلفہ اور عرفات گھمالائیں ،حج کے زمانے میں ازدحام کی وجہ سے کچھ پتہ نہیں چلتا بس آنا جانا ہوتا ہے ایسے اطمینان سے تمام چیزیں دیکھ لیں گے، صبح ناشتے کے بعد نکلے ، پہلے منیٰ گئے ، اس وقت جمرات کی توسیع کا کام چل رہا تھا ، اسے پانچ منزلہ کیا جارہا تھا ، وہاں کے فائز پروف خیموں کو