بہت ضعیف تھیں ان کو مولوی عامر نے بالائی منزل سے وہیل چیر کے ذریعہ طواف کرایا اور بہت محنت کی، طواف کے بعد سعی کا مرحلہ تھا ، ابھی سعی کے کئی چکر باقی تھے کہ ظہر کا وقت ہوگیا، ہم لوگوں نے ظہر کی نماز اداکی، ان کی ماں کو استنجا کا تقاضا تھا، لیکن اس وقت بھیڑ بھاڑ کی وجہ سے نیچے جانا ممکن تھانہ ، نماز کے بعد کہنے لگیں کہ مجھے پیشاب ہوگیا اب کیا کروں ، منیر بھائی بھی بہت پریشان ہوئے، میں نے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ، آپ لوگ سعی کے بقیہ چکر مکمل کرلیں ، ان کے جتنے چکر باقی رہ گئے ہیں کل کرادیا جائے گا ، کہنے لگے کوئی اس میں حرج؟ میں نے کہا کچھ نہیں ، تو بہت خوش ہوئے، بہت دعا دی کہ آپ لوگوں کی وجہ سے بڑی سہولت ہوگئی ورنہ میں تو پریشان ہوجاتا۔ چنانچہ وہ ان کی بہن اور اہلیہ نے سعی مکمل کی اور قیام گاہ پر واپس آگئے اور دوسرے روزماں کو لے آئے اور بقیہ سعی پوری کرادی۔ اب ان کا زیادہ تر وقت ہم لوگوں کے ساتھ ہی گزرتا، نہایت فیاض اور سخی آدمی ہیں ، ہروقت کچھ نہ کچھ کھلاتے پلاتے رہتے تھے، ان کی ہرچیز انتہائی معیاری ہوتی تھی۔
منیربھائی کی قیام گاہ پر حضرت مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی ، حاجی منظور صاحب اور مولانا غلام رسول صاحب سے ملاقات ہوئی ، پھر روزانہ ہی حرم میں ان حضرات سے ملاقاتیں ہوتی رہیں ، متعدد بارحضرت مولانا سے ملاقات کیلئے حضرت مفتی صاحب اپنے رفقاء کے ساتھ قیام گاہ پر بھی تشریف لائے۔ایک روز فجر بعد حرم میں ملاقات ہوئی ، نمازکے کچھ دیربعد طواف شروع کیا گیا،ایک دو چکر کے بعد ہجوم بڑھتا گیا جب مقام ابراہیم کے پاس پہونچتے تو چلنا مشکل ہوجاتا، ایک چکر میں دیکھا کہ کچھ لوگ ہاتھ میں ہاتھ پکڑکر راستہ روکے کھڑے ہیں تاکہ ان کے کچھ ساتھی مقام ابراہیم کے پاس طواف کی دورکعت ادا کرسکیں ،یہ دورکعت مقام ابراہیم کے پاس پڑھنا مسنون ہے لیکن اگراس میں دشواری ہوتو کہیں بھی یہ نماز پڑھی جاسکتی ہے، لیکن ناواقفیت کو کیا کہا جائے ، ان کے اس عمل سے طواف کرنے والوں کو بہت دشواری ہوئی، میں نے حضرت مفتی صاحب سے دریافت کیا کہ اس عمل کی کیا حیثیت ہے؟ فرمایا کہ دوسروں کو تکلیف پہونچانا اور خود مشقت میں مبتلا ہونا