ان کی محبت وعنایت سے معمور ہے، حضرت قاری صاحب تو جوارِ رحمت میں جاچکے ، باری تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں اور اپنے شایانِ شان اجر مرحمت فرمائیں ، اور حضرت حکیم صاحب مدظلہ کے سایۂ عاطفت کواﷲ تعالیٰ درازتر فرمائیں اور ان کے فیض کوعام وتام فرمائیں ۔آمین
ہم لوگوں کے مکہ مکرمہ پہونچنے کے چند روز بعد ہی مفتی عبد الرحمن صاحب جدہ آگئے جن کے بارے میں حضرت مولانا فرمایا کرتے تھے کہ آسانیاں مفتی صاحب کے ساتھ چلتی ہیں ، ایک روزصبح ان کے ہمراہ جدہ گیا، کچھ سامان وغیرہ خریدا اورشام کو واپسی مکہ ہوئی۔مفتی عبد الرحمن صاحب سے ایک روزمعلوم ہوا کہ حضرت مولانا مفتی ابوالقاسم صاحب نعمانی( مہتمم دار العلوم دیوبند)حاجی منظوراحمد صاحب اور مولانا غلام رسول صاحب وارانسی کی آخری فلائٹ سے بھی تشریف لانے والے ہیں ، ان حضرات کی آمد کی خبر سن کر بڑی مسرت ہوئی ، اسی وقت مولانا کے ایک انتہائی مخلص قدرداں اور فدائی اورآپ سے حد درجہ محبت رکھنے والے منیر بھائی جو منیرسیٹھ سے مشہور ہیں اپنی ماں ،بہن اور اہلیہ کے ساتھ آئے، یہ شیخوپور کے رہنے والے ہیں ،مستقل قیام ممبئی میں ہے،مدرسہ کے نہایت مخلص خیرخواہ اور اس کے ارکان تاسیسی میں سے ہیں ۔ غالباً یہ سبھی لوگ ایک ہی فلائٹ سے آئے تھے اس لئے کہ قیام ان سب لوگوں کا عزیزیہ کی ایک ہی بلڈنگ میں تھا۔ ایک روز حضرت مولانا نے فرمایا کہ تم اور عامر عزیزیہ چلے جاؤ اور منیر اوراس کے اہل خانہ کا عمرہ کی ادائیگی میں تعاون کرو، ان کی آمد سے ہم لوگوں کو بھی بہت خوشی تھی ، میں اور مولوی عامر ان کی قیام گاہ پر گئے اور لے کر حرم آئے، جیسے ہی ہم لوگ بیت اﷲ کے سامنے پہونچے اور منیر بھائی کی نگاہ اس مقدس گھر پر پڑی بے تحاشا رونے لگے، اور دیرتک ان کی آنکھوں سے آنسو گرتے رہے اسی فرط گریہ میں کہنے لگے کہ حاجی بابو!یہ اﷲ کا کس قدر مجھ پر کرم ہے اس نے تمامتر گنہگاری اور سیہ کاری کے باوجود اپنے اس گھر کی زیارت کی توفیق اور سعادت بخشی، میں نے کہا دعا کرئیے ، یہ دعا کی قبولیت کا ایک اہم موقع ہے، دعا کے بعد طواف شروع کیا، ان کی ماں